رسائی کے لنکس

عراق و شام میں داعش کے ’50 ہزار جنگجو ہلاک ہوئے‘: امریکی عہدیدار


فائل فوٹو

عہدیداروں نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ تعداد ایک "محتاظ اندازے" کے مطابق خیال کی جا رہی ہے۔

امریکہ کے اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے اگست 2014 میں صدر اوباما کی طرف سے شدت پسند گروپ داعش کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دینے کے بعد سے اب تک گروپ کے 50 ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

عہدیداروں نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ تعداد ایک "محتاظ اندازے" کے مطابق خیال کی جا رہی ہے۔

جب کہ ایک دوسرے اعلیٰ عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 50 ہزار شدت پسند وہ ہیں جو خاص طور پر شام اور عراق میں مارے گئے اور ان میں داعش کے وہ جنگجو شامل نہیں ہیں جو لیبیا اور افغانستان جیسے دیگر ملکوں میں ہلاک ہوئے۔

اس اندازے کے مطابق بتائی گئی تعداد اس امر کی عکاسی کرتی ہےکہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ کی قیادت کے اتحاد کی طرف سے کی جانے والے فضائی کارروائیاں کتنی موثر رہیں۔

داعش کے مارے گئے جنگجوؤں کی تعداد ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عراق میں امریکی قیادت کے اتحاد کے ترجمان کرنل جان ڈوریئن نے کہا کہ موصل میں داعش کی فورسز ایک "غیر مستحکم شرح" سے اپنے جنگجوؤں کو کھو رہی ہیں کیونکہ وہ "مکمل محاصرہ میں ہیں اور ان کی کمک حاصل کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔"

ڈوریئن نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ "وہ (داعش) آرام سے ختم نہیں ہو گی لیکن ا ب ان کا جانا ٹھر گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ داعش مخالف فورسز نے دیکھا ہے کہ جیسے جیسے اس کی تعداد کم ہو رہی ہے یہ دہشت گرد گروپ نو عمر جنگجوؤں کو استعمال کر رہا ہے جسے انہوں نے ایک "بے ضمیر" اقدام سے تعبیر کیا ہے۔

پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شدت پسند گروپ کے جنگجوؤں کی تعداد میں کمی کے بعد ممکنہ طور پر یہ گروپ تبدیل ایسے گروپ بدل جائے گا جسے انہوں نے "اے کیو۔آئی 2.0" قرار دیا جس سے عراق میں القاعدہ کا ایک نیا چہرہ مراد ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ "جلد یا بدیر وہ منظر عام سے ہٹ جائیں گے لیکن وہ اپنے نظریے، بیرونی حملوں اور دہشت گرد کارروائیاں کی ذریعے اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔"

انھوں نے کہا کہ امریکہ قیادت میں اتحاد ایسی تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے پیش بندی کے لیے کام کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG