رسائی کے لنکس

پاکستان فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے پر تیار، رائٹرز کا دعویٰ


سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے جمعرات کو یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے جمعرات کو یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

اسلام آباد میں پیر کی شام ایوانِ وزیرِاعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔"

ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری عرب اتحاد کی فوجی کارروائی میں شرکت کے لیے اپنے فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت نے تاحال فوج سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاہم اسلام آباد میں پیر کی شام ایوانِ وزیرِاعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔"

'رائٹرز' نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں حکومتِ پاکستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی یمنی باغیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں سعودی عرب کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کراچکی ہے اور اب اس نے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا باقاعدہ حصہ بننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور وزیرِاعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز کی قیادت میں پیر کو سعودی عرب پہنچا تھا لیکن سعودی حکام کی درخواست پر یہ دورہ موخر کردیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کی اشاعت سے چند گھنٹے قبل وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر غور کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں یمن میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا اور وہاں جاری لڑائی میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر غور کیا گیا۔

پیر کی شام ایوانِ وزیرِاعظم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اپنے عوام کی خواہشات کے عین مطابق پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری اور سالمیت کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں بامعنی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ "بحران کے حل اور امتِ مسلمہ کے اتحاد اور قیامِ امن کے لیے وزیرِاعظم برادر مسلم ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے کریں گے۔"

بیان کے مطابق اجلاس نے اقوامِ متحدہ، مسلم ممالک کی تنظیم 'او آئی سی' اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان سعودی عرب کا ایک اہم اتحادی ہے اور 'رائٹرز' کے مطابق پاکستان کے تقریباً 800 فوجی اہلکار پہلے سے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مغرب اور خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور عبوری دارالحکومت عدن کی جانب پیش قدمی کے بعد سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے جمعرات کو باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔

XS
SM
MD
LG