رسائی کے لنکس

اوہایو: داعش کے لیے کام کرنے پر 20 سال قید


ملزم منیر عبدالقادر کی فائل فوٹو

ملزم منیر عبدالقادر کی فائل فوٹو

عدالت نے ملزم کو پابند کیا ہے کہ وہ جیل سے رہائی کے بعد اپنی باقی پوری عمر پولیس کوا پنی نقل و حرکت سے آگاہ رکھے گا۔

امریکہ کی ایک عدالت نے امریکی فوجی اور پولیس اہلکاروں کے قتل کی سازش کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ریاست اوہایو کے ایک نوجوان کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

بائیس سالہ منیر عبدالقادر پر مقدمہ سنسناٹی کے ڈسٹرکٹ عدالت میں چل رہا تھا جس کے جج مائیکل بیرٹ نے بدھ کو مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

ریاست کے عبوری نائب اٹارنی جنرل مک کارڈ کے مطابق ملزم شام میں مقیم داعش کے جنگجو جنید حسین سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھا اور اس کی مشاورت سے امریکہ میں ایک پولیس تھانے پر حملے اور ایک امریکی فوجی اہلکار کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

استغاثہ نے عدالت سے ملزم کو 25 سال قید کی سزا سنانے کی درخواست کی تھی۔ البتہ وکلائے صفائی نے موقف اختیار کیا تھا کہ امریکی عدالتیں اس سے قبل اسی نوعیت کے مقدمات میں ملزمان کو 15 سال یا اس سے کم کی سزائیں دے چکی ہیں۔

عدالت نے ملزم کو پابند کیا ہے کہ وہ جیل سے رہائی کے بعد اپنی باقی پوری عمر پولیس کوا پنی نقل و حرکت سے آگاہ رکھے گا۔ منیر عبدالقادر کو پولیس نے مئی 2015ء میں گرفتار کیا تھا۔

وفاقی محکمۂ انصاف کے ایک بیان کے مطابق ملزم منیر عبدالقادر نے داعش کے نظریات سے متاثر ہو کر اپنے آبائی شہر میں واقع ایک فوجی چھاؤنی میں تعینات ایک ملازم کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے قتل کی پوری کارروائی کی ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اسے بعد ازاں داعش کے جنگجو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرسکیں۔ فوجی اہلکار کے قتل کے بعد ملزم نے سنسناٹی کے علاقے میں واقع ایک پولیس تھانے پر بھی حملے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

استغاثہ کے وکلا نے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا ملزم تھانے کی مسلسل نگرانی کے علاوہ آتشیں ہتھیار چلانے اور نشانے بازی کی مشق بھی کر رہا تھا اور اس نے حملے کے لیے ایک کلاشنکوف بھی خریدی تھی۔

XS
SM
MD
LG