رسائی کے لنکس

’او آئی سی‘ کے انسانی حقوق کمیشن کے وفد کا دورہ پاکستان


واضح رہے کہ یہ کمیشن بھارت کے زیر انتظام کشمیر جا کر خود صورت حال کا جائزہ لینا چاہتا تھا لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے انسانی حقوق کمیشن کے وفد نے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے پیر کو ’او آئی سی‘ کے آٹھ رکنی کمیشن کے وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور اُن سے کہا کہ وہ بھارتی کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کے معاملے کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں۔

واضح رہے کہ یہ کمیشن بھارت کے زیر انتظام کشمیر جا کر خود صورت حال کا جائزہ لینا چاہتا تھا لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ سال جولائی میں ایک نوجوان علیحدگی پسند عسکری کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر کے اس حصے میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی تھی۔

اسی کشیدگی کے دوران مظاہروں کا ایک سلسلہ چل نکلا، جس میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے برہان وانی کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرنے والا ہیرو قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن بھارت کی طرف سے پاکستان کے اس موقف پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔

برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھارتی کشمیر میں کشیدگی اور اُس کے بعد گزشتہ سال ستمبر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں ایک فوجی اڈے پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

امریکی حکام اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات میں پاکستان اور بھارت سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ دوطرفہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG