رسائی کے لنکس

خلیج میکسیکو میں تیل کااخراج، فلوریڈا زد میں


خلیج میکسکیو میں، جہاں اپریل میں تیل کے ایک کنوئیں کی کھدائی کے دوران دھماکے کے بعد بڑے پیمانے پر خام تیل بہنا شروع ہوگیا تھا،کئی ہفتوں سے جاری کوششوں کے باوجود ابھی تک سمندری حیات اور ساحلی علاقے امریکی سانحات کی تاریخ کے اس سب سے بڑے خطرے سے پوری طرح محفوظ نہیں ہوسکے ہیں۔اب ریاست فلوریڈا کی تقریبا 1300 کلو میٹرکی ساحلی پٹی بھی اس کی زد میں ہے۔ علاقے کو آلودگی سے بچانے کے لیے بڑی تعداد میں ماہرین اور فوجی دستوں کو وہاں بھیج دیا گیا ہے۔

فلوریڈا کے ساحلی علاقوں کے پانی سے تیل کی صفائی کے مرحلے کا آغازطیاروں کے ذریعے فضائی جائزوں سےکیا گیا ہے۔ فلوریڈا کوسٹ گارڈ کا عملہ دن میں تین مرتبہ تیل کی تلاش اور اس کی صفائی کے لیے نکلتا ہے۔ اس مہم پر مامور عملہ ساحلی پٹی کے نزدیک 2400 کلومیٹر کے علاقے کی نگرانی کررہے ہیں ، جس کی قیادت لیفٹیننٹ کمانڈر سکاٹ مرفی کے پاس ہے۔

یہ عملہ پانی کے اوپر تیل کی تہوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ جبکہ پانی کی سطح کے نیچے تیل کی موجودگی کے لیے ریڈار کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد افسران کوسٹ گارڈکے جہازوں سے حاصل کردہ معلومات کی جانچ پڑتال سیٹلائٹ اور بحری جہازوں سے حاصل کردہ اعدادو شمار سے کرتے ہیں۔ اور پھر تیل سے متاثرہ علاقوں کا نقشہ تیار کیا جاتا ہے۔

اصل مرحلہ بادلوں اور سمندری گھاس کی وجہ سے پیدا ہونے والے سائیوں اور تیل کی پرتوں کے درمیان فرق کی نشان دہی کا ہے۔سکاٹ مرفی کہتے ہیں کہ جب آپ طیارے میں ایک منٹ میں تین میل کا فاصلہ طے کرتے ہوں۔تو ایسے میں یہ نشاندہی مشکل ہو سکتی ہے۔ ہم عموما ایسی جگہوں کی نشاندہی کرکے یہ بتا دیتے ہیں کہ شاید یہ تیل کی تہہ ہو یا پھر بادلوں کی وجہ سے بننے والا سایہ۔

تمام حاصل شدہ معلومات کو ٹاسک فورس کو بھیج دی جاتی ہیں ۔ کو پائلٹ برائین بولینڈ کہنا ہے کہ ایسا کرنا آسان نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خاص علاقے میں دو گھنٹے تک پرواز کرتے رہے۔ اور اب چوبیس گھنٹے کے بعد دوبارہ پرواز کریں گے مگر ہوا کی رفتار اور لہروں کی وجہ سے یہ کہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا تیل کی پرتیں اپنی جگہ موجود رہیں گی یا اپنی جگہ تبدیل کریں گی۔

تیل کی پرتیں پہلے ہی امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پنسیکولا کے ساحل کے قریب آ چکی ہیں۔ اور اس کی صفائی کے لیے عملہ چھٹی کے دن بھی کام کررہاہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ تیل کے اخراج کے سبب نباتات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ نیشنل پارک رینجر ڈین کائیگرکا کہنا ہے کہ تیل کی وجہ سے سمندری گھاس کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG