رسائی کے لنکس

عام طور پر لوگ بھنڈی کو اس کے لیس دار مواد کی وجہ سے کھانا پسند نہیں کرتے ہیں لیکن صحت کے فوائد کی بڑی تعداد کے ساتھ غذائی ماہرین بھنڈی کو ایک 'ہیرو ' سبزی مانتے ہیں۔

ایک قدیم مصری کہاوت ہے کہ دنیا میں ایک چوتھائی انسان اپنے کھانے پینے کی عادتوں کی وجہ سے زندہ ہیں اور تین چوتھائی ڈاکٹروں کے سہارے زندہ ہیں۔ ویسے اس میں کوئی راز کی بات نہیں کہ صحت مند غذا اچھی صحت کی بنیاد ہوتی ہے۔

آپ نے بہت مرتبہ سنا ہو گا کہ پھل یا سبزیاں کافی مقدار میں کھانی چاہیئں کیونکہ، یہ ہماری صحت کے لے اچھی ہیں اگرچہ ہم یہاں نئے انکشافات نہیں کر رہے ہیں لیکن بھنڈی کے طبی فوائد کی ایسی تفصیلات پیش کر رہے ہیں، جو شاید آپ کو ایک بار سوچنے پر ضرور مجبور کرسکتی ہے۔

بھنڈی ویسے تو ایک پودے کا پھل ہے لیکن، اسے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر سبزی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں 'اوکرا 'یا لیڈی فنگر کے نام سے جانی پہچانی جانے والی سبزی اپنے طبی فوائد کے ساتھ سال بھر دستیاب رہتی ہے۔

عام طور پر لوگ بھنڈی کو اس کے لیس دار مواد کی وجہ سے کھانا پسند نہیں کرتے ہیں لیکن صحت کے فوائد کی بڑی تعداد کے ساتھ غذائی ماہرین بھنڈی کو ایک 'ہیرو ' سبزی مانتے ہیں۔

بھنڈی وٹامنز، معدنیات، منفرد تکسیدی مادوں یا اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر غذائی اجزاء سے بھری ہوئی ہے، جس سے کئی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ خاص طور پر ذیا بیطس کے علاج اور گردے کی بیماریوں کے لیے بھنڈی بہت فائدہ مند ہے۔

ایک کپ کچی بھنڈی میں لگ بھگ 30 کیلوریز تقریباً 3 گرام غذائی ریشہ یا فائبر، 2 گرام پروٹین، 7.6 گرام کاربوہائیڈریٹ، 0.1 گرام چربی، 21 ملی گرام وٹامن سی اور تقریباً 88 مائیکرو گرام فولیٹ اور 57 ملی گرام میگنیشیم پایا جاتا ہے۔

بھنڈی کو آپ سالن یا اچار کی شکل میں کھائیں یا پھر تل کر یا ابال کر کھائیں آپ اس سبزی کے فوائد کو سارا سال حاصل کرسکتے ہیں۔

دمہ سے بچاؤ :

جن پھلوں یا سبزیوں میں وٹامن سی کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے مثلاً بھنڈی کی بہت تھوڑی سی مقدار کھانے سے دمہ کی علامات کا خاتمہ ممکن ہے۔ ایک سائنسی جریدے 'تھورکس' میں شائع ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بھنڈی بچپن میں دمہ کی علامات مثلاً گھرگھراہٹ کے خلاف انتہائی حفاظتی اثر رکھتی ہے۔ یہ حفاظتی اثرات ان بچوں میں بھی دیکھے گئے جو ہفتے میں ایک یا دوبار بھنڈی یا ترش پھل کھاتے تھے جبکہ دمہ کے حساس مریضوں میں خاص طور پر یہ حفاظتی اثرات سچ ثابت ہوئے۔

کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار:

بھنڈی ناصرف نظام انہضام کو فروغ دیتی ہے بلکہ، اعلیٰ فائبر کے ساتھ صحت مند کولیسڑول کی سطح کو فروغ دیتی ہے۔ بھنڈی میں موجود حل پذیر فائبر پانی میں تحلیل کیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فائبر غذا کی نالی میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ جہاں وہ کھانے کی دوسری چیزوں کے کولیسڑول کے ساتھ چپک جاتا ہے اور جسم سے فضلے کے ساتھ خارج ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پرکولیسٹرول کی سطح کم ہو جاتی ہے۔

ہارورڈ ہیلتھ اسکول کی مطبوعات کے مطابق اگر کھانے کی تمام اشیاء جن میں زیادہ چکنائی اور کولیسٹرول ہے، ان کی جگہ بھنڈی کھائی جائے تو کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ بھنڈی میں کولیسٹرول نہیں ہے اور اس میں بہت کم چکنائی ہے۔

ذیا بیطس سے حفاظت:

بھنڈی ذیا بیطس کی بیماری کے خطرے کی روک تھام کے لیے مددگار ہے۔ سائنسی مشاہدات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ حل پذیر ریشے کی وجہ سے بھنڈی ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔ یہ آنتوں میں جذب ہونے والی شکر پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

ایک سائنسی جریدے آئی ایس آر این میں شائع ہونے والی تحقیق میں طبی ماہرین نے بھنڈی کے ٹکٹروں کو پانی میں حل کیا اور اسے ایک گیسٹرک فیڈنگ نلکی سے چوہوں کو کھلایا جبکہ کنٹرول گروپ کے چوہوں کو دوسری غذا دی گئی۔ محققین کو اس تجربے سے پتا چلا کہ بھنڈی کھانے سے شکر کے جذب کی شرح میں کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں ذیا بیطس کا علاج کیےجانے والے چوہوں کےخون میں شکر کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔

مدافعتی نظام کو فروغ:

بھنڈی وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء سے بھری ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو فروغ دیتی ہے۔ بھنڈی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے زہریلے غیر محفوظ آزاد ذرات یا فری ریڈ یکلز کے حملوں کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ وٹامن سی مدافعتی نظام کو زیادہ خون کے سفید خلیات پیدا کرنے کے لیے متحرک کرتا ہے، جس سے مدافعتی نظام کو جراثیم اور بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد ملتی ہے۔

گردے کی بیماری سے بچاؤ:

بہت سے سائنسی مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ باقاعدگی سے بھنڈی کھانے سے گردوں کی بیماریوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے 'جلن میڈیکل جرنل' میں شائع مطالعے میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہےکہ ایسے مریض جو روزانہ بھنڈی کھاتے تھے ان میں گردے کے نقصان کی طبی علامات میں کمی واقع ہوئی ان مریضوں کے مقابلے میں جو ذیابیطس کی ڈائیٹ پر رکھے گئے تھے۔

صحت مند حمل کا فروغ :

بھنڈی وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن بی ون، بی ٹو اور بی 6 کی اعلیٰ مقدار کے ساتھ وٹامن سی سے مالامال ہے۔ اس میں زنک اور کیلشیم ہے۔ جو حمل کے دوران کھانے کے لیے اسے ایک مثالی سبزی بناتا ہے۔

بھنڈی فائبر اور فولک ایسڈ کے لیے ایک سپلیمنٹ کے طور پر کام کرتا ہے یہ بچوں میں پیدائشی نقائص کی روک تھام اور حاملہ ماؤں میں قبض کی شکایت کو دور کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG