رسائی کے لنکس

2012ء اولمپکس کی تیاریاں آخری مراحل میں

  • ہنری ول

لندن کے اولمپکس سٹیڈیم میں سائیکلنگ ٹریک بنانے کی تیاریاں

لندن کے اولمپکس سٹیڈیم میں سائیکلنگ ٹریک بنانے کی تیاریاں

2012 کے اولمپک گیمز کے لیے لندن میں اولمپک پارک کی تعمیر جاری ہے ۔ برطانوی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام اپنے وقت پر مکمل ہو جائے گا ۔ لیکن دوسری جانب اس شعبےسے وابستہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ عالمی معیشت کی صورتحال اولمپک مقابلوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے ۔

لندن کے مضافاتی علاقے سٹیفورڈ میں زیر تعمیر اولمپک پارک کو یورپ میں تعمیر ہونے والی سب سے بڑی عمارت قرار دیا جا رہا ہے ۔ جہاں ہزاروں کارکن تعمیراتی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ دو سال بعد اسی جگہ دنیا کے 205 ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی دنیا کے 30 ویں اولمپک کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیں گے ۔

حال ہی میں اولمپک پارک کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے دنیا کے نامور کھلاڑیوں کو وہاں کا دورہ کرایا گیا۔ امریکہ کے لئے سونے کے چار تمغے جیتنے والے کھلاڑی مائیکل جونسن کا کہنا تھا کہ دو سال کا عرصہ کھلاڑیوں کو اولمپک کی تیاری کے لئے کافی وقت دے گا ۔

کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ لندن کی مقامی انتظامیہ بھی 2012 ء اولمپک کے لیے خصوصی تیاریاں کر رہی ہے۔ نئی عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ نئے سوئمنگ پولز ، جدید باسکٹ بال کے میدان اور سائیکلوں کی دوڑ کے لیے نئے راستے بھی تعمیر کیے جارہے ہیں جہاں مائیکل فیلپ جیسے نامور تیراک اور کرس جیسے سائیکلسٹ گولڈ میڈل کے لیے مقابلہ کریں گے ۔

ان تیاریوں کے اخراجات کا اندازہ ساڑھے14 ارب ڈالر تک لگایا جا رہا ہے جو اس سے 3 گنا زیادہ ہے جس پر برطانیہ نے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کی بولی جیتی تھی۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا اثر اولمپک مقابلوں پر پڑے گا لیکن بڑے منصوبے اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔

ایک برطانوی اخبار دی اکانومسٹ کے تجزیہ کار پیٹرک لین کہتے ہیں کہ مقابلوں پر اٹھنے والی لاگت کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ اگرچہ اسے کھیلوں کے میلے اور شہر کی تعمیر دونوں لحاظ سے دیکھا جاسکتا ہے ، لیکن دونوں صورتوں میں یہ بہت مہنگا کام ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ 80 ہزار نشستوں کا ایک سٹیڈیم تعمیر کر رہے ہیں تو اولمپک کے بعد آپ اسے کہاں استعمال کریں گے؟

لیکن منتظمین کا کہنا ہے کہ اولمپک مقابلے اپنے پیچھے مثبت اثرات چھوڑ کر جائیں گے ۔ کیتھ ملز 2012 ءلندن اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں جب دنیا معاشی مشکلات کا شکار ہے ، یہ مقابلے ہماری معیشت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے ، اور ہوسکتا ہے کہ ہمیں معاشی مندی سے بھی نکال لیں۔

اولمپکس کے انعقاد پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کے باوجود لندن کے رہائشیوں میں ان تیاریوں پر جوش پایا جا تا ہے۔ ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لندن کے تین چوتھائی شہری اولمپک مقابلوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ اگرچہ ممکنہ اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں ، تاہم منتظمین کو امید ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی لندن شہر میں ایک نئی روح پھونک دے گی۔

XS
SM
MD
LG