رسائی کے لنکس

اولمپکس سے مشرقی لندن میں رہنے والے مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگوں کو قریب لانے میں مدد ملی ہے ۔ اس طرح ان کھیلوں کو عام لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے

مشرقی لند ن میں، اولمپک پارک کے نزدیک، برطانیہ کی سول سوسائٹی کی سب سے بڑی تنظیم نے حال ہی میں رمضان المبارک کی ایک بین المذاہب تقریب منعقعد کی جس میں بنیادی خیال اولمپک کا جذبہ تھا ۔ اس تقریب میں امن کی اولمپک روایت اور کھیلوں کی وجہ سے لندن شہر کے اس علاقے پر پڑنے والے اقتصادی اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ شہر کے اس علاقے میں بہت سے نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔


مشرقی لندن کے یارک ہال میں، برطانیہ کی سب سے بڑی شہری تنظیم سٹیزنز یو کے نے ایک افطار کا اہتمام کیا۔ یہ گروپ لندن اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے کام میں شامل رہا ہے ۔ اس تقریب کا مقصد یہ بھی تھا کہ اس کمیونٹی پر جہاں اولمپک کے بڑے بڑے اسٹیڈیم تعمیر کیے گئے ہیں، اولمپک کھیلوں کے خوشگوار اثرات کا جشن منایا جائے ۔


اس گروپ نے ہر فرد کے لیے جو لندن اولمپکس سے متعلق کوئی بھی کام کر رہا ہے، کم از کم 12 ڈالر فی گھنٹے کی اجرت کا اصول منظور کرانے اور مقامی اسکولوں، ہسپتالوں اور کم آمدنی والے لوگوں کے لیے رہائشی سہولتوں کے لیے اولمپک فنڈز حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

سٹیزنز یوکے کے ڈائریکٹر نئیل جیمسن کہتے ہیں کہ شہر کے اس علاقے کی اقتصادی ترقی کے لیے جہاں بہت سی مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں، مشرقی لندن مسجد کی شرکت ضروری تھی ۔

’’ایسٹ لندن کی مسجد لند ن کی سب سے بڑی معاشرتی تنظیم ہے ۔ یہاں 10,000 لوگ نماز پڑھتے ہیں ۔ آج ہم بھی ان کے ساتھ ہیں، اور مسلمان اور غیر مسلم، ایک ساتھ روزہ کھول رہے ہیں کیوں کہ اس طرح ہماری دنیا میں اور اولمپکس میں امن کو فروغ ملتا ہے ۔‘‘

مسجد کے چیئرمین، محمد باری کہتے ہیں کہ اولمپکس کی وجہ سے اس علاقے کو اقتصادی فوائد حاصل ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ، رمضان المبارک میں اولمپکس کے پر امن مقابلوں کی خصوصی اہمیت ہے۔

’’یہ خوب سے خوب تر کی جستجو ہے ۔ یہ صحت مندانہ مقابلہ ہے ۔ یہاں ہم آہنگی اور بھائی چارہ ہے ۔ سیاست کا عمل دخل زیادہ نہیں ۔ لہٰذا لندن کے لوگوں اور پورے برطانیہ کے لیے یہ ایک انتہائی عمدہ اور مفید تجربہ ہے ۔‘‘

ہاکی کے مقامی کھلاڑی ڈیرین چیزمین جو زخمی ہو جانے کے باعث اولمپکس میں حصہ نہیں لے سکے، کہتے ہیں کہ انہیں مشرقی لندن میں اولمپکس کے مثبت اثرات صاف نظر آ رہے ہیں۔’’میں سمجھتا ہوں کہ یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کا اثر میری ذاتی زندگی پر پڑ رہا ہے ۔ ایک اتھلیٹ کی حیثیت سے مجھے خوشی ہے کہ یہ پہلے اولمپکس ہیں جن میں اخلاقیات کا عنصر شامل ہے۔ یہ احساس بڑا خوشگوار ہے کہ ہماری کمیونٹی پر بھی اولمپکس کے بہت اچھے اثرات پڑیں گے ۔‘‘

چیزمین کہتے ہیں کہ اولمپکس سے مشرقی لندن میں رہنے والے مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگوں کو قریب لانے میں مدد ملی ہے ۔ اس طرح ان کھیلوں کو عام لوگوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
XS
SM
MD
LG