رسائی کے لنکس

عمان میں اصلاحات کے لیے مظاہروں کے بعد پہلے انتخابات

  • فلپ ویلمین

عمان میں اصلاحات کے لیے مظاہروں کے بعد پہلے انتخابات

عمان میں اصلاحات کے لیے مظاہروں کے بعد پہلے انتخابات

اس سال کے شروع میں عُمان میں اصلاحات کے لیے مظاہرے ہوئے تھے ۔ ان مظاہروں کے بعد وہاں لوگ پہلی بار، سنیچر کے روز عام انتخاب میں ووٹ ڈالیں گے۔ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ احتجاجیوں کے بیشتر مطالبات پورے کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد احتجاجی مظاہرے ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔ لیکن عمان کے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تبدیلی کی رفتار اتنی سست ہے کہ وہاں مزید بے چینی پھیل سکتی ہے ۔

ہفتہ، 15 اکتوبر کو پولنگ شروع ہوگی تو عُمان کی شوریٰ کونسل کی 84 نشستوں کے لیے ایک ہزار سے زیادہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

شوریٰ کونسل نسبتاً بڑے ادارے، کونسل آف اومان کا حصہ ہے جس میں اسٹیٹ کونسل بھی شامل ہے جس کا تقرر سلطان کرتے ہیں۔ روایتی طور پر اس کا اجلاس سلطان قابوس کی درخواست پر ان کی پسند کے موضوعات پر بحث کے لیے ہوتا ہے ۔

ملک میں مارچ میں جب بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے تو سلطان قابوس نے عُمان کی کونسل کو قانون سازی اور ضابطے بنانے کے اختیارات دے دیے ۔ یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ ان اختیارات کے تحت کن چیزوں کی اجازت ہے۔

تاہم عمان کے بہت سے لوگوں کی نظر میں یہ اچھی پیش رفت ہے ۔ 2007 کے مقابلے میں اس سال کے انتخا ب میں 130,000 سے زیادہ ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے ۔

بدر القاسمی جو دارالحکومت مسقط سے انتخاب لڑ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اس سال امیدواروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔’’بہت سی خوشگوار تبدیلیاں آئی ہیں ۔ پچھلی مرتبہ میں نے اس خیال کے تحت خود کو نامزد نہیں کیا تھا کہ اس کونسل سے ہماری توقعات پوری نہیں ہوتی تھیں۔ لیکن یہ کونسل ہماری توقعات پر پوری اتری ہے۔‘‘

قانون سازی میں اصلاحات کے علاوہ، سلطان قابوس نے سرکاری شعبے میں ملازمتوں کے پچاس ہزار نئے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا، بے روزگاروں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے، اور اپنی کابینہ میں ردو بدل کیا۔

عُمان کے لوگ پہلی بار جنوری میں سڑکوں پر نکلے تھے ۔ انھوں نے زیادہ ملازمتوں، بہتر اجرتوں، زیادہ جمہوریت، اور حکومت میں کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کئی وزیر سرکاری فنڈز کا غبن کرتے رہتے ہیں جب کہ ملک میں دوسرے لوگوں کے پاس نہ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے کے لیے پیسے ہیں نہ تعلیم کے لیے۔

مسقط میں رہنے والے ایک شخص نے جنھوں نے اپنا نام اسمٰعیل بتایا، کہا کہ سلطان قابوس نے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے، وہ ملک کے انتہائی سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں ۔

انھوں نےکہا’’یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جن کے لیے ہم سڑکوں پر نکلے تھے اور ہم نے احتجاج کیا تھا ۔ ہم مکمل آزادی چاہتے ہیں، ہم ایسی پارلیمینٹ چاہتے ہیں جو پوری طرح منتخب ہو۔‘‘

عمان میں سب سے زیادہ ہنگامے شمال کے صنعتی قصبے سوہارمیں ہوئے جہاں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہو گئے ۔

مسقط ، سر اور سلالہ میں بھی بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔ بہت سے شرکاء کہتے ہیں کہ مظاہروں کے بعد انہیں کسی جواز کے بغیر گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قید خانے میں انہیں اذیتیں دی گئیں۔ حکام ان الزامات سے انکار کر تے ہیں۔

اومان کے ہنگامے اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ اب تک احتجاجیوں نے بادشاہت کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ انھوں نے سلطان قابوس سے اپنی وفاداری پر زور دیا ہے۔ لیکن سلطان السعدی جنہیں سوہار کے مظاہروں میں حصہ لینے پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا، کہتے ہیں کہ یہ سوچ بدل بھی سکتی ہے۔’’اگر صورت حال ایسی ہی رہتی ہے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ بعض لوگ حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کرنے لگیں گے ۔ ہم اس کے حق میں نہیں ہیں ۔ ہمیں اب بھی اس حکومت پر اعتماد ہے، لیکن حکومت کو اپنے ذہن کے دریچے کھولنے چاہئیں، اپنا ہاتھ کھلا رکھنا چاہئیے۔ سلطان کو لوگوں کی بات سننی چاہیئے۔‘‘

مسقط کے اسمٰعیل کا خیال ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب عمان کے شہری مزید اصلاحات کے مطالبوں کے ساتھ سڑکوں پر واپس آ جائیں گے۔’’اس حکومت پرسے لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے ۔ وہ صرف ایک چنگاری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر ہر طرف آگ لگ جائے گی۔‘‘

تاریخی اعتبار سے عمان کا شمار مشرق ِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ پُر امن ملکوں میں ہوتا ہے ۔

لندن میں قائم آئی ایچ ایس گلوبل انسائٹ کی تجزیہ کار غالا ریانی کہتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو عمان میں حالیہ کشیدگی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے کیوں کہ عمان کا محل وقوع بہت اہم ہے۔ عمان ، ایران کا ہمسایہ ہے، اس کی سرحد یمن سے ملتی ہے، اور وہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے ۔ خلیج فارس سے بھیجا جانے والا تمام تیل اسی اسٹریٹجک آبی گذر گاہ سے ہو کر جاتا ہے ۔’’اگر عمان میں اور زیادہ عدم استحکام ہوا، تو اس کے اثرات پورے علاقے پر پڑیں گے اورکسی کو اس صورتِ حال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔‘‘

سلطان قابوس نے عمان کی حکومت کو جدید خطوط پر ڈھالنے کے لیے 1991 میں شوریٰ کونسل قائم کی تھی ۔ انتخاب میں کامیاب ہونے والے امیدوار چار سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ اس سال کی ووٹنگ کا مشاہدہ کرنے کے لیے کوئی غیر ملکی مبصر مدعو نہیں کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG