رسائی کے لنکس

اومان مذاکرات کا دوسرا دِن، کوئی پیش رفت نہ ہو سکی


اومان

اومان

امریکہ، ایران اور یورپی یونین کی طرف سے اومان میں جاری مذاکرات کے دوسرے دن کے اختتام پر، ایران کے جوہری پروگرام پر ’مربوط سمجھوتے‘ کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی

امریکہ، ایران اور یورپی یونین کی طرف سے اومان میں جاری مذاکرات کے دوسرے دن کے اختتام پر، ایران کے جوہری پروگرام پر ’مربوط سمجھوتے‘ کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، جب کہ کسی معاہدے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن قریب ہے۔

پیر کے دِن، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین امور خارجہ کی پالیسی کی سربراہ، کیتھرین ایشٹن 24 نومبر کی ڈیڈلائن سے قبل کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوششوں میں لگے رہے۔

تاہم، کسی پیش رفت کے کوئی نمایاں آثار موجود نہیں، جب کہ کلیدی مشکلات درپیش ہیں۔

پیر کے دِن ہونے والے مذاکرات کی شام کی نشست میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے، ظریف نے کہا کہ اُن کے خیال میں اِن مذاکرات میں ’بالآخر‘ پیش رفت حاصل ہوگی۔
کیری نے کہا کہ مذاکرات میں تمام فریق سخت کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کے دِن ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ اب تک تمام فریق کسی معاہدے تک پہنچنے کے نزدیک نہیں لگتے۔

اومان میں منعقدہ یہ اجلاس اوباما انتظامیہ کے لیے ایک بہترین موقع کی حیثیت رکھتا ہے جس میں ایران کے ساتھ کوئی جوہری معاہدہ طے کی طرف آگے بڑھا جا سکتا ہے، اس سے پہلے کہ جنوری میں کانگریس کا کنٹرول تذبذب کے شکار ریپبلیکنز کے حوالے ہوجائے۔

بات چیت میں یورینیئم کی افزودگی کے سینٹری فیوجز کی تعداد اور اقسام کا معاملہ اہم پیچیدہ نکات کی حیثیت رکھتا ہے، جن کے جاری رکھنے کی ایران کو اجازت دی جاسکتی ہو، اور کسی سمجھوتے کے طے ہونے کی صورت میں بیرونی دنیا کو معائنے کا کیا دائرہٴکار فراہم ہوگا، اور مغرب ایران کے خلاف کونسی انتہائی تکلیف دہ معاشی تعزیرات تیزی سے اٹھانے کا اقدام تیزی سے کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG