رسائی کے لنکس

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے حامی ان طالبعلموں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جو امتحان کے لیے یونیورسٹی آنے والے اپنی کلاس فیلوز کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روک رہے تھے۔

مصر میں ہفتے کے روز قاہرہ میں الازہر یونیورسٹی کے کیمپس میں اخوان المسلمون کے حامی طالبعلموں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ایک طالبعلم ہلاک ہوگیا۔

ایک طالبعلم نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا طالبعلم خالد ال حداد ہے جو کہ ملک میں اسلامی انقلاب کا حامی تھا اور جب سے حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، وہ روزانہ حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لیتا تھا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے حامی ان طالبعلموں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جو امتحان کے لیے یونیورسٹی آنے والے اپنی کلاس فیلوز کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روک رہے تھے۔

مظاہرین نے اس موقعے پر پولیس پر پتھر پھینکے اور ٹائروں کو آگ لگا دی۔ سرکاری اخبار ال احرام کے مطابق وزارت ِصحت کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ اس تصادم میں ایک طالبعلم ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے۔

اخوان المسلمون کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق طالبعلموں پر کیے جانے والے کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں طالبعلموں پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال اس بات اک مظہر ہے کہ حکومت کو مخالفت برداشت نہیں اور وہ ایسی ہر آواز کو خاموش کر دینا چاہتی ہے جو حکومت کے خلاف ہو۔
XS
SM
MD
LG