رسائی کے لنکس

دس لاکھ أفغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی


افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی، (فائل فوٹو)

افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی، (فائل فوٹو)

عالمی ادارے نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو یہ موسم سرما اپنے ہاں گذارنے کی اجازت دے۔

اس سال دس لاکھ سے زیادہ أفغان پناہ گزین ہمسایہ ملک پاکستان اور ایران سے رضاکارانہ طور پر یا بے دخل کیے جانے کے بعد اپنے وطن واپس پہنچے ہیں۔ تارکین وطن کے عالمی ادارے نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یہ طالبان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے وطن لوٹنے والے پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

تین لاکھ 90 ہزار سے زیادہ پناہ گزین اقوام متحدہ کے وطن واپسی سے متعلق پروگرام کے تحت رضاکارانہ طور پر واپس گئے ہیں۔ تقریباً چھ لاکھ 20 ہزار ایسے أفغان ، پاکستان اور ایران سے واپس گئے ہیں جن کے پاس ان ملکوں میں رہنے کی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔

ان دونوں ملکوں نے حالیہ مہینوں میں ہزاروں پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجا ہے۔

سن 2002 میں تقریباً 20 لاکھ أفغان پناہ گزین طالبان حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد بہتر مستقبل کی آرزو میں اپنے آبائی ملک میں واپس گئے تھے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 2002 اور 2014 کے عرصے میں دنیا بھر سے پانچ لاکھ 80 ہزار افغانوں کی اپنے آبائی وطن واپسی ہوئی ۔

جب کہ 2015 میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سیکیورٹی کی خراب صورت حال کے باعث تقریباً دو لاکھ أفغان باشندوں نے یورپ کا رخ کیا۔

لیکن اس سال یہ سلسلہ پلٹ گیا ہے اور ملک میں دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین واپس آ گئے ہیں، جس سے أفغان حکومت کے لیے جسے طالبان کی شورش سے مقابلے کا سامنا ہے، ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

تارکین وطن کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ أفغان پناہ گزینوں کے لیے واپسی کی حتمی تاریخ گذر جانے بعد ابھی تک پاکستان کی حکومت نے واپس نہ جانے والوں کے خلاف کسی کارروائی کا آغاز نہیں کیا، تاہم عالمی ادارے نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو یہ موسم سرما اپنے ہاں گذارنے کی اجازت دے۔

پاکستان کی ریاستی اور سرحدی علاقوں کی وزارت نے ملک میں رہنے والے تمام غیر قانونی أفغان پناہ گزینوں کی رجسڑیشن شروع کرنے سے متعلق کابینہ کو ایک تجویز بھیج دی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG