رسائی کے لنکس

شاہد دوسال سے بھی کم عرصہ پہلے تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور سے لندن آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری زندگی یکسر بدل چکی ہے ۔ میں سب کچھ بھول سکتا ہوں مگر ’ ون پونڈ فش‘ کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔


حالیہ دنوں لندن میں مقیم ایک پاکستانی شاہد نذیر انٹرنیٹ اور میڈیا چینلز پر تیزی سے مقبول ہورہے ہیں اور ان کی مقبولیت کا راز چھپا ہے کہ ان کی تخلیق ون پونڈ فش میں۔ جس کی بنا پر انہیں ون پونڈ فش مین بھی کہا جارہاہے۔

شاید نذیر مچھلی کے کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو کے دوران بتایا کہ اپنی دکان کی فروخت بڑھانے کے لیے انہوں یہ سوچنا شروع کیا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شروع میں انہوں نے گاہکوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ صدا لگانی شروع کی کہ اس ایک پونڈ کی مچھلی کو دیکھیئے۔ مگر اس سے کچھ حاصل نہ ہوا۔

اس سے ا گلے روز انہوں نے اس پر ایک گانا بنانے کا سوچا اور ان کا یہ نسخہ بہت کارگر رہا اور گانے کے بول ’ کم آن لیڈیز، کم آن لیڈیز ۔۔۔ ون پونڈ فش‘ کے بولوں نے لوگوں کو اپنی جانب کھینچا شروع کردیا۔

شاہد کہتے ہیں کہ گاہک ان کے گانے سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ تمہیں تو پاپ سٹار ہونا چاہیے۔

اور اب شاہد کی اپنی ایک میوزک ویڈیو ہے اور ان کا کاروبار تیزی سے ترقی کررہاہے۔ شاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کے گانے ون پونڈ فش پر لاکھوں ہٹس آچکی ہیں۔

انہوں نے اپنا گانا ’ ون پونڈ ایچ، ویری ویری گڈ، ویری ویری چیپ‘ وائس آف امریکہ کے لیے گنگنایا، اور کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وائس آف امریکہ کے پلیٹ فارم سے ان کی آواز دنیا بھر میں سنی جائے گی۔

مزید تفصیلات اس آڈیو میں۔

شاہد دوسال سے بھی کم عرصہ پہلے تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور سے لندن آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری زندگی یکسر بدل چکی ہے ۔ میں سب کچھ بھول سکتا ہوں مگر ’ ون پونڈ فش‘ کو کبھی نہیں بھلا سکتا۔

اس ہفتے کے شروع میں یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنے کے بعد سے شاہد نذیر کے گانے پر 30 لاکھ سے زیادہ ہٹس آچکی ہیں۔

شاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اپنے چار بچوں اور خاندان کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں جو ان کے راتوں رات مشہور ہوجانے پر بڑے حیران ہیں۔
XS
SM
MD
LG