رسائی کے لنکس

فرانس میں شعبہ فن سے وابستہ مختلف شخصیات نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "موسیقی بجائیں اور روشنیاں جلائیں۔"

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونےو الے ہلاکت خیز حملوں کو ایک ہفتہ مکمل ہو رہا ہے اور گوکہ شہر میں کسی بھی طرح کے اجتماع پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود پیرس کے باسی حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات پر پھول چڑھانے اور شمع روشن کرنے کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں اور فضا اب بھی سوگوار ہے۔

گزشتہ جمعہ کو مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے حملے میں 129 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ جنگ عظیم دوئم کے بعد پیرس میں پیش آنے والا مہلک تین واقعہ تھا۔ ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند گروپ داعش نے قبول کی تھی۔

جمعہ کو فرانس کی قدیمی مسجد کے قریب بھی ایک بڑے مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا جس کا مقصد بین المذاہت یکجہتی کا اظہار تھا، لیکن سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسے بھی منسوخ کر دیا گیا۔

حکام نے بدھ کو پیرس کے نواح میں سینٹ ڈینس کے علاقے میں مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی کارروائی میں کئی گھنٹوں کی فائرنگ کے بعد تین مشتبہ دہشت گرد مارے گئے جن میں پیرس حملوں کا مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود بھی شامل ہے۔

ادھر فرانس میں شعبہ فن سے وابستہ مختلف شخصیات نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ "موسیقی بجائیں اور روشنیاں جلائیں۔"

اس سلسلے میں ٹوئٹر پر #21h20 ہیش ٹیگ بھی بنایا گیا ہے، یعنی نو بج کر 20 منٹ۔ یہی وہ وقت تھا جب گزشتہ ہفتے پیرس میں ہلاکت خیز حملے شروع ہوئے۔

اس حوالے سے ہفنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک خط میں درجنوں فنکاروں، مصنفین، موسیقاروں اور دیگر ثقافتی شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ " آزادی اور ثقافت پر قاتلوں کے حملے کے خلاف تمام نسلوں، عقائد اور پس منظر رکھنے والوں کو متحد ہو جانا چاہیے۔"

خط میں لوگوں پر زور دیا گیا کہ وہ روشنیاں جلائیں، شمع روشن کریں، موسیقی بجائیں تاکہ حملہ آوروں کو "معلوم ہو سکے کہ وہ (دہشت گرد) ہار گئے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG