رسائی کے لنکس

بچوں کی ایک برطانوی چیریٹی کمیشن کی جانب سے 10 فروری کو 'محفوظ انٹرنیٹ کے دن' کے پر شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہر 7 میں سے 1 نوجوان آن لائن غنڈہ گردی کا نشانہ بنتا ہے

ایک نئی جائزہ رپورٹ سے پتہ چلا ہےکہ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ پر نوجوانوں کو ڈرانے اور دھمکانے کا رجحان عام ہے۔ خاص طور پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بڑی تعداد میں نوجوان آن لائن بلنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

بچوں کی ایک برطانوی چیریٹی کمیشن کی جانب سے 10 فروری کو 'محفوظ انٹرنیٹ کے دن' پر شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہر 7 میں سے 1 نوجوان آن لائن غنڈہ گردی کا نشانہ بنتا ہے۔ بہت سے نوجوانوں نےاعتراف کیا کہ وہ مخصوص سماجی گروپ کا ساتھ دینے کے لیے دوسروں کو آن لائن بلنگ کا نشانہ بناتے ہیں۔

جبکہ، طلبہ کی بڑی تعداد نے بتایا کہ انھیں انٹرنیٹ پر ساتھیوں کے توہین آمیز پیغامات سے بچنےکے لیے دوسروں کے ساتھ ایسا کرنا پڑتا ہے۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ پرائمری اور ثانوی اسکولوں کے8 برس سے 17 برس کے 2000 طلبہ کی 15 فیصد تعداد کو انٹرنیٹ پر ڈرایا جاتا ہے اور انھیں دھونس اور دھمکیوں بھرے پیغامات وصول ہوتے ہیں۔

سروے میں شامل طلبہ نے بتایا کہ ان دنوں وسیع پیمانے پرغنڈہ گردی سائبربلنگ بن گئی ہے، 59 فیصد نوجوانوں کے مطابق، وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مخصوص سماجی حلقےکےساتھ رہنےکے لیے دوسروں پر دھونس جماتے ہیں۔

اسی طرح 43 فیصد نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ وہ لوگوں کی آن لائن بلنگ کا ہدف بننےسے بچنے کے لیےدوستوں کو منفی جذبات والےپیغامات بھیجتے ہیں جبکہ 28 فیصد نے کہا کہ انھیں دوستوں کے دباء کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔

علاوہ ازیں، سروے سے پتا چلا کہ 12 فیصد نوجوان آن لائن غنڈہ گردی کا استعمال اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں ناخوش ہوتے ہیں۔

تاہم، طلبہ کی نصف تعداد کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر بے چینی محسوس کرنے والے پیغامات یا پوسٹ کے حوالے سے وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اور اس پر اپنا رد عمل ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ لیکن، تقریباً ہر 5 میں سے 1 طالب علم نے بتایا کہ وہ ڈر اور خوف کی وجہ سے انٹرنیٹ کے دھمکی آمیز پیغامات پر رعمل ظاہر نہیں کرتے ہیں۔

ایکشن فار چلڈرن کی سربراہ ڈیانا نیلسن نے کہا ہے کہ بہت سے نوجوان دوسروں کو سائبر دھونس اور دھمکی کا نشانہ اس لیے بناتے ہیں کیونکہ، ان کی اپنی زندگی میں کچھ اچھا نہیں ہو رہا ہے، یا پھر اسے آن لائن غنڈہ گردی کے جواب میں اپنے تحفظ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی اسکول کا تناؤ یا بالغوں کی طرف سے ان پر بے جا زیادتی اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک بچہ دوسرے بچے پر دھونس جماتا ہے۔

تنظیم کی سربراہ ڈیانا نیلسن نےوالدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انھیں چاہیئے کہ وہ جس طرح بچے سےاسکول کے دن کے بارے میں سوالات پوچھتےہیں بالکل اسی طرح ان کی آن لائن سرگرمیوں اور مشاغل کےحوالے سے بھی سوالات پوچھیں کہ آیا اسے انٹرنیٹ پرکسی کی طرف سے ڈرایا جارا ہے یا پھر وہ دوسروں پر دھونس اوردھمکی کا استعمال کر رہا ہے۔

ایک پچھلے مطالعے سے ظاہر ہوا تھا کہ سیکنڈری اسکولوں کےنصف طلبہ اور پرائمری اسکولوں کےایک چوتھائی طلبہ انٹرنیٹ پر اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

ایک گذشتہ مطالعے کے نتیجےسے پتہ چلا تھا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر خوشی کے برعکس غصے اور نفرت کے جذبات پر منبی پیغامات زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں، جبکہ ایسے پوسٹ کو دوبارہ پوسٹ کرنا اس کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا اور اس کے حوالےسے اپنی ذاتی رائے کے اظہار کو علاماتی عمل تصور کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG