رسائی کے لنکس

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے اندارج کے لیے آن لائن نظام


حکام کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی ہر سال بہتر حصول روزگار کے لیے ملک سے باہر جاتے ہیں اور اُن سمیت پہلے سے موجود بیرون ملک پاکستانیوں کو دوران ملازمت کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے عالمی ادارہ محنت کے تعاون سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے اندارج کے لیے ’آن لائن‘ نظام کا آغاز کیا ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، یورپی یونین اور عالمی ادارہ محنت کے تعاون سے اس مقصد کے لیے ایک ویب سائیٹ کا باقاعدہ آغاز بدھ کو اسلام آباد میں کیا گیا۔

حکام کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی ہر سال بہتر حصول روزگار کے لیے ملک سے باہر جاتے ہیں اور اُن سمیت پہلے سے موجود بیرون ملک پاکستانیوں کو دوران ملازمت کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

اگرچہ سمندر پار پاکستانی خط و کتابت کے ذریعے اپنی شکایات متعلقہ پاکستانی محکموں تک پہنچاتے رہے ہیں، لیکن اب اس جدید نظام سے وہ بر وقت اپنی شکایات پہنچا سکیں گے۔

وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و افرادی قوت صدر الدین شاہ راشدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس ویب سائیٹ کے آغاز سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کا جلد ازالہ ممکن ہو سکے گا۔

وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و افرادی قوت صدر الدین شاہ راشدی

وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و افرادی قوت صدر الدین شاہ راشدی

’’وہ طبقہ جو بالخصوص ملک میں زرمبادلہ بھیجتا ہے ۔۔۔۔ خاص طور پر وہ لوگ جو (بیرون ملک) دفتروں میں کام کرتے ہیں یا ہنرمند ہیں یا نیم ہنرمند ہیں ان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے۔۔ اگر ان کو کوئی مسئلہ ہے ان کو کوئی شکایت ہے تو وہ ویب سائیٹ کو استعمال کر کے (اپنی شکایت) درج کروائیں تو ان کو ایک اضافی سہولت دی جا رہی ہے"۔

’آئی ایل او‘ یعنی عالمی ادارہ محنت سے وابستہ ایک عہدیدار سعدیہ حمید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں جہاں انہیں اپنے روزگار کے سلسلے میں کئی طرح کی مشکلات درپیش ہیں اور اُن کے بقول آن لائن نظام کے تحت انہیں اپنی بات متعلقہ حکام تک پہنچانے میں آسانی ہو گی۔

’’یہ ضرورت اس لیے محسوس کی گئی تاکہ کوئی شخص اگر کہیں بھی موجود ہو۔۔۔۔۔ اگر اسے انٹرنیٹ تک رسائی ہے تو ہو اپنی شکایت درج کروائے۔ اگر وہ درج نہیں کروا سکتا ہے تو اس کا کوئی رشتہ دار درج کروا سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے تو ہاتھ سے لکھ کر شکایت بھیج سکتا ہے اور وزارت میں موجود عملہ خود سے اس کی شکایت درج کروا کے اسے ایک ٹریکنگ نمبر جاری کر دے گا تو اب اس (متاثرہ شخص) کے پاس اپنی شکایت پہنچانے کے مختلف طریقے موجود ہیں"۔

بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جو نہ صرف ملکی معیشت بلکہ ان کے خاندانوں کی کفالت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG