رسائی کے لنکس

ایران کے تیل کے وزیر نے کہا ہے کہ اوپیک اپنی پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی کٹوتی کرے گا جو دنیا کی کل پیداوار کے ایک فی صد کے برابر ہے۔

اوپیک کی جانب سے 2008 کے بعد سے خام تیل کی پیداوار میں پہلی بار کمی کے معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور جمعرات کو ایک بار پھر قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

اس فیصلے کے بعد بدھ کے روز قیمتوں میں تقریباً 10 فی صد اضافہ ہوا جس سے توانائی کے شعبے کے حصص میں عمومی طورپر تیزی آئی ۔

جمعرات کو ایک بار پھر تیل کی قیمتیں بڑھیں اور اب وہ تقریباً 50 ڈالر فی بیرل کو چھو رہی ہیں۔

ایران کے تیل کے وزیر نے کہا ہے کہ اوپیک اپنی پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی کٹوتی کرے گا جو دنیا کی کل پیداوار کے ایک فی صد کے برابر ہے۔

تیل کی عالمی پیداوار اب کم ہو کر تین کروڑ 25 لاکھ بیرل ہوگئی ہے۔

بدھ سے قبل ویانا میں ہونے والی اجلاس میں سعودی عرب کے توانائی کے وزیر نے کہا تھا کہ اوپیک غیر رکن ملکوں سے بھی اپنی پیداوار گھٹانے کے لیے کہے گا۔

روس نے بھی جو اوپیک میں شامل نہیں ہے، اپنی تیل کی پیداوار میں تین لاکھ بیرل روزانہ کی کمی کردی ہے۔

اوپیک کا کہنا ہے کہ وہ تیل کی عالمی قیمتیں 55 اور 60 ڈالر فی بیرل کے درمیان رکھنا چاہتا ہے، جس سے تیل پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو بحال ہونے میں مدد ملے گی۔ پچھلے دو سال کے عرصے میں تیل کی قیمتیں 50 ڈالر فی بیرل سے نیچے جانے سے ان تیل کی معیشتوں کو نقصان پہنچا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG