رسائی کے لنکس

سینتالیس فیصد امریکی لیبیا میں فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں

  • جم میلون
  • انجم گل

سینتالیس فیصد امریکی لیبیا میں فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں

سینتالیس فیصد امریکی لیبیا میں فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں

جہاں لیبیا میں سرکاری فورسز اور باغیوں کے درمیان جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے ، امریکہ میں اس حوالے سے ایک اورطرح کی جنگ جاری ہے اور وہ ہے صدر اوبامہ کی پالیسیوں کی حمایت کیلئے کانگریس اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونا

لیبیا میں شہریوں کی حفاظت کیلئے عالمی اتحاد کیساتھ مل کر فوجی طاقت استعمال کرنے سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے پر امریکی عوام اور کانگریس کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ Quinnipiac University کی جانب سےلیے گئے عوامی رائے عامہ کےحالیہ جائزوں میں اکتالیس کے مقابلے میں سینتالیس فیصد امریکیوں نے لیبیا میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ حالانکہ

انہی جائزوں میں پینسٹھ فیصد افراد نےلیبیائی عوام کی حفاظت کیلئے فضائی کاروائیوں کی حمایت بھی کی ہے۔

اُدھر جہاں لیبیا میں سرکاری فورسزاور باغیوں کےدرمیان جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اِدھر امریکہ میں اس حوالے سےایک اورطرح کی جنگ جاری ہےاور وہ ہے صدر اوبامہ کی پالیسیوں کی حمایت کیلئے کانگریس اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونا۔

ریاست اوہائیو سے ریپبلکن نمائندے مائیکل ٹرنر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ فتح سے ابھی بہت دور ہے۔
ٹرنر کے الفاظ میں’میں یقین سے آپکو بتا سکتا ہوں کہ اگر آپ آج ایک قراداد ایوان میں پیش کریں اور اس پر رائے شماری کروائیں تو مجھے شک ہے کہ وہ منظور ہو گی اور میں تو یقیناٍٍٍ ً اسکے لئے ووٹ نہیں دوں گا۔ ‘

جائزہ لینے والے پیٹر براؤن کا کہنا ہے کہ فی الحال تو امریکی عوام لیبیا میں ملوث ہونے پر کشمکش کا شکار ہیں اور بظاہر وہ جنگ سے تھک چکے ہیں۔
پیٹر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغانستان اور پھر عراق اور اب لیبیا میں مداخلت کے بارے میں بہت سے امریکی ان پالیسیوں کی دانشمندی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

لیبیا پرکاروائی کیلئے حمایت حاصل کرنے کی خاطر قوم سے خطاب کرتے وقت صدر اوبامہ کے ذہن میں بھی عراق جنگ سےا سکی مماثلت موجود تھی ۔

صدر نے کہا تھا کہ وہاں حکومت تبدیل کرنے میں آٹھ برس کا عرصہ لگ گیا جس دوران ہزاروں امریکی اور عراقی جانیں ضائع ہوئیں اور تقریباًٍ ایک کھرب ڈالر خرچ کرنا پڑے، اور ہم لیبیا میں یہ سب دوبارہ نہیں کر سکتے۔
بروکنگ انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ کارا سٹیفن ہیس کہتے ہیں کہ عام شہریوں کی حفاظت کیلئے نیٹو قیادت میں امریکی فضائی حملوں کیلئے حمایت موجود ہے۔
اسٹیفن کے بقول ’امریکی عوام میں عمومی سطح پر فضائی حملوں کیلئےحمایت موجود ہے مگر اس سے ہٹ کر کسی اور کاروائی کیلئے قبولیت موجود نہیں۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ لیبیا میں امریکہ کے عسکری حوالے سے ملوث ہونے پر حمایت کی کچھ حدود ہیں۔ اسٹیفن کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے ہی دو جنگوں میں ملوث ہیں اور تیسری جنگ چھیڑنے میں فی الوقت عوام دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ درون خانہ پہلے ہی انکے سامنے بے شمار مسائل ہیں۔ ‘
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک لیبیا میں امریکی ملوث رہتے ہیں صدر اوبامہ کو عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کرتے رہنا پڑے گی۔

XS
SM
MD
LG