رسائی کے لنکس

ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں نے کیتھرین کی قابلیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

صدر براک اوباما نے وفاقی ملازمین سے متعلق ادارے "آفس آف دی پرسنیل مینیجمنٹ" کی ڈائریکٹر کیتھرین ارکولیٹا کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

انھوں نے ہیکروں کی طرف سے تقریباً دو کروڑ سے زائد سابقہ اور موجودہ ملازمین کے ذاتی ریکارڈ چوری کرنے کے تناظر میں استعفیٰ دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے دعویٰ کیا تھا کہ ملکی تاریخ کی اس سب سے بڑی ڈیٹا چوری کا سب سے زیادہ "شبہ چین پر" ہے۔

تاہم وائٹ ہاوس کے عہدیداروں نے جمعہ کو اس دعوے کی تصدیق کرنے سے انکار کیا تھا۔

کیتھرین ارکولیٹا نے اپنا استعفیٰ جمعہ کو وائٹ ہاوس آکر ذاتی طور پر پیش کیا تھا۔ ایک روز قبل ہی انھوں نے بتایا تھا کہ سائبر حملوں سے دو کروڑ دس لاکھ ملازمین کی معلومات چوری ہوئیں۔

گزشتہ ماہ رپورٹ ہونے والے سائبر حملے کے بعد وہ کہہ چکی تھیں کہ اس سے 40 لاکھ ملازمین کا ریکارڈ متاثر ہوا۔

اس ریکارڈ میں سکیورٹی کلیئرنس سے متعلق حساس نوعیت کی معلومات بھی شامل ہیں۔

ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں نے کیتھرین کی قابلیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ کیتھرین اور وائٹ ہاوس دونوں ہی اس بات کا ادارک رکھتے ہیں کہ "آفس آف پرسنیل مینیجمنٹ کو درپیش نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایسے مینیجر کی ضرورت ہے جو مخصوص تجربہ اور صلاحیت رکھتا ہو۔"

وائٹ ہاوس کے حکام کہنا ہے کہ اس ادارے کی ایک سابق عہدیدار بیتھ کولبرٹ قائم مقام ڈائریکٹر کے طور پر کام کریں گی۔

XS
SM
MD
LG