رسائی کے لنکس

سندھ رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر سینیٹ میں احتجاج

  • عشرت سلیم

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایوان سے باہر چلے گئے۔

پاکستان کی وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کراچی میں رینجرز کو مکمل پولیس اختیارات دینے کے فیصلے کے خلاف حزب اختلاف کی دو جماعتوں نے بدھ کو سینیٹ سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایوان سے باہر چلے گئے۔

تاہم حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سندھ کی ایک اور نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اس واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔

یاد رہے کہ چند دن قبل سندھ حکومت نے ایک نوٹیفیکشن اور قرارداد کے ذریعے رینجرز کے اختیارات میں تحصیص کی تھی، مگر وزارت داخلہ نے منگل کو سندھ حکومت کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت رینجرز کو دیے گئے اختیارات میں تخصیص یا ترمیم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی انہیں مشروط کیا جا سکتا۔

دو سال قبل حکومت نے کراچی میں امن و امان کے لیے رینجرز کو خصوصی اختیارات دیے تھے۔ ابتدائی طور پر یہ انسداد دہشت گردی اور سنگین جرائم پر مرکوز رہا مگر بعد میں سرکاری دفاتر اور عہدیداروں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے سے یہ آپریشن متنازع بن گیا۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد کراچی میں رینجرز کی کارروائیاں وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدگی کا باعث بن گئیں۔ ڈاکٹر عاصم پر الزام تھا کہ ان کے زیرانتظام چلنے والے ضیا الدین گروپ آف ہاسپٹلز میں دہشت گردوں کو طبی امداد دی جاتی تھی۔

سندھ حکومت نے 4 دسمبر کو رینجرز کے اختیارات ختم ہونے کے بعد ان میں توسیع تو کی لیکن کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت رینجرز کو صرف چار سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں کرنے کا اختیار ہے جن میں دہشت گردی، ٹارگٹڈ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان شامل ہیں مگر رینجرز نے حکومتی دفاتر پر چھاپے مار کر، عہدیداروں کو گرفتار کرکے اور سرکاری ریکارڈ پر قبضہ کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

دوسری طرف سندھ اسمبلی میں ایک قراردار منظور کی گئی جس میں رینجرز سے کہا گیا کہ وہ صوبے میں چھاپے مارنے میں نیب اور ایف آئی اے کی مدد نہ کریں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ رینجرز صرف مذکورہ بالا چار جرائم سے متعلق کارروائی کر سکتے ہیں۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی بھی شخص جس پر دہشت گردوں کی معاونت کا شبہ ہو اسے سندھ کے وزیر اعلیٰ کی تحریری اجازت کے بغیر حفاظتی تحویل میں نہیں لیا جا سکتا اور نہ سندھ کے چیف سیکرٹری کی تحریری اجازت کے بغیر کسی سرکاری دفتر یا اتھارٹی پر چھاپہ مارا جا سکتا ہے اور نہ ہی رینجرز ایسا کرنے میں کسی اور ادارے کی مدد کریں گے۔

کراچی کی بڑی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کے ارکان نے بھی مبینہ طور اپنے کارکنوں کے خلاف رینجرز کی کارروائیوں پر احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان اور سندھ اسمبلی سے استعفے دے دیے تھے مگر بعد میں حکومت کی اس یقین دہانی پر کہ اس کے کارکنوں کو بلاوجہ نشانہ نہیں بنایا جائے گا پارٹی نے استعفے واپس لے لیے تھے۔

XS
SM
MD
LG