رسائی کے لنکس

حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی طرف سے حالیہ دنوں میں حکومت پر تنقید میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور جمعرات کو پارلیمان کے سامنے احتجاجی دھرنے کی کال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ احتجاجی دھرنے کا مقصد بجلی کے بحران کو حل کرنے اور بلوچستان میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کے روکنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پارلیمان میں موجود دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دے گی اور مظاہرین جلوس کی شکل میں ایوان صدر تک بھی جائیں گے جہاں دھرنا دیا جائے گا۔

لیکن وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بدھ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اس طرح کے دھرنے کا مقصد محض سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

’’ان حالات میں سیاسی قیادت کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور سیاسی قیادت کا کام پاکستان کو ان مسائل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی قیادت ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے بحران مزید نا بڑھیں۔‘‘

دریں اثنا ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی بدھ کو اپنے ایک سخت الفاظ پر مبنی بیان میں بلوچستان میں ہزارہ برادری پر ہلاکت خیز حملوں کو روکنے میں حکام کی ناکامی پر کڑی تنقید کی ہے۔

تنظیم کی سربراہ زہرہ یوسف نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ وہ ذاتی مداخلت اور ہنگامی اقدامات کے ذریعے بلوچستان میں ہزارہ برادری کے خلاف حملوں کو روکنے کی کوششیں کریں کیوں کوئی بھی حکومت اپنے لیے اس تاثر کو درست نہیں سمجھے گی کہ اس کی زیر نگرانی ملک کے ایک صوبے میں قانون کی عمل داری نا ہونے برابر ہو۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے اور ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ انھیں جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ صوبے میں تشدد کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG