رسائی کے لنکس

اورکزئی ایجنسی میں بمباری سے30 ہلاک


اورکزئی ایجنسی میں بمباری سے30 ہلاک

اورکزئی ایجنسی میں بمباری سے30 ہلاک

حکام کا کہنا ہے کہ شمال مغربی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے حملوں سے کم از کم 13 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتوار کی صبح جیٹ طیاروں سے کی گئی بمباری میں اورکزئی ایجنسی کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اِس دور درازعلاقے میں ذرائع ابلاغ کی محدود رسائی کے سبب ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اور اْن کی شناخت کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

قبائلی علاقے میں الگ واقعات میں مشتبہ جنگجوؤں نے ہفتے کے روز کُرم ایجنسی سے جن ساٹھ افراد کو اغوا کیا تھا ان میں پچاس کو آزاد کر دیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی بزرگ باقی اغواشدگان کو چھڑانے کے لیے گفت وشنید کر رہے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مارچ سے جاری ہیں جِن کا ہدف وہ طالبان جنگجو ہیں جنھوں نے دوسرے شورش زدہ علاقوں سے بھاگ کر یہاں پناہ لے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران اورکزئی سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پْرتشدد واقعات میں 22 مشتبہ عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں تاہم اِس حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ البتہ حکومتی ذرائع نے اِن کو دو مخالف شدت پسند گروپوں کے درمیان لڑائی قرار دیا ہے۔

ہفتے کے روز مشتبہ طالبان کے زیرا ستعمال ایک مکان اور دو گاڑیاں دھماکوں میں تباہ ہو گئی تھیں اور کم از کم چھ مبینہ شدت پسند مارے گئے تھے جب کہ جمعرات کو پیش آنے والے واقعات میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دھماکوں کے بارے میں ایک غیر مصدقہ اطلاع یہ بھی تھی کہ یہ مبینہ طور پر بغیر پائلٹ امریکی طیاروں یا ڈرون سے داغے گئے میزائلوں کا نتیجہ تھے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اب تک خیبر ایجنسی میں کوئی امریکی ڈرون حملہ نہیں کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG