رسائی کے لنکس

سینیٹر مرکلے کا بھی ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا اعلان


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

مرکلے 31 ویں سینیٹر ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والی رائے شماری میں اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیں گے جس کے بعد اس معاہدے پر علمدرآمد ممکن ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اور امریکی سینیٹر جیف مرکلے نے اتوار کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔

مرکلے 31 ویں سینیٹر ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والی رائے شماری میں اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیں گے جس کے بعد اس معاہدے پر علمدرآمد ممکن ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

امریکہ اور پانچ دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کے عالمی معائنے پر اتفاق کیا گیا جس کے عوض ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی جن سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوان ستمبر کے وسط میں اس معاہدے پر رائے شماری کریں گے۔

رپبلیکن پارٹی اس معاہدے کی شدید مخالفت کر رہی ہے اور اب تک اس کے کسی رکن نے جوہری معاہدے کی حمایت نہیں کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان اس معاہدے کو مسترد کر دے گا۔

تاہم سینیٹ میں مقابلہ سخت ہو گا۔ سینیٹ میں رپبلیکن پارٹی کے 54ارکان کو اس معاہدے کو مسترد کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے چھ ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک صرف دو ڈیموکریٹ اراکین نے اس معاہدے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ اگر کانگریس کے دونوں ایوانوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تو وہ اس کو ویٹو کر دیں گے جسے منسوخ کرنے کے لیے دونوں ایوانوں کو دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔

سینیٹ میں صرف 34 ارکان کی مدد سے صدارتی ویٹو کو برقرار رکھا جا سکے گا۔ مرکلے کی حمایت کے بعد صدر اوباما کو صرف تین اور ارکان کی حمایت درکار ہے۔

مگر صدر اوباما کے حامی سینیٹ میں کم از کم 41 ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ صدر اوباما کی طرف سے معاہدے کو ویٹو کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

XS
SM
MD
LG