رسائی کے لنکس

اورلینڈو حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے تقاریب


حملے میں مرنے والوں کے لواحقین اور اس میں زخمی ہونے والوں کی امداد کے لیے مقامی تنظیم نے 15 لاکھ ڈالر سے زائد امدادی رقم جمع کر لی۔

امریکی شہر اورلینڈو میں ایک نائٹ کلب میں ہوئے مہلک حملے میں مارے جانے والوں اور دیگر متاثرین سے افسوس اور یکجہتی کے لیے لوگوں نے مختلف دعائیہ اور یادگاری تقاریب کا اہتمام کیا۔

اتوار کو "پلس" نامی نائٹ کلب میں فائرنگ سے 49 افراد ہلاک 53 زخمی ہو گئے تھے۔ یہ کلب ہم جنس پرستوں کی مقبول عام جگہ کے طور پر مشہور ہے۔ افغان نژاد امریکی حملہ آور عمر متین بھی یہاں ہونے والی پولیس کی کارروائی میں مارا گیا تھا۔

پیر کی صبح ہی سے لوگ کلب کے قریب واقع ایک مقام پر جمع ہونا شروع اور ایک مخصوص جگہ پر پھول رکھ کر حملے میں مرنے والوں کی خراج عقیدت پیش کیا۔

اس سلسلہ دن بھر جاری اور شام کو لوگوں نے شمع روشن کیں اور ہلاک شدگان کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

حملے میں مارے جانے والے لوگ

حملے میں مارے جانے والے لوگ

یہیں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "ہمیں ہر کسی کے لیے دعائیں چاہیئں۔" ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ "مزید نفرت نہیں چاہیئے نہ ہی امتیاز"۔

کلب سے کچھ ہی فاصلے پر فلوریڈا میں ہم جنس پرستوں کے ایک مرکز میں موجود اس تنظیم کے عہدیدار ٹیری ڈیکارلو بھی غمزدہ حالت میں ہیں لیکن وہ اپنی برادری کے غم کو ہلکا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اپنی ہم جنس پرست برادری کے ایسے لوگ جو اس واقعے کے بعد شدید دکھ کی وہ کیفیت میں انھیں حوصلہ دے رہے ہیں جب کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے بھی اقدام کر رہے ہیں۔

ڈیکارلو کا کہنا تھا کہ "ایسے خاندان جن کے لوگ اسپتال میں ہیں انھیں اسپتال کے اخراجات کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، مرنے والوں (کے لواحقین کو ان کی) آخری رسومات یا تدفین کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ سب کچھ ہو جائے گا۔ پوری دنیا سے کیا جانے والا محبت کا اظہار زبردست ہے۔"

پیر کی دوپہر تک اس ضمن میں 15 لاکھ ڈالر کی رقم جمع ہو چکی تھی جس کے بارے میں ڈیکارلو کا کہنا تھا کہ یہ برادری کی طرف سے زبردست شراکت داری ہے جو کہ حملے کے بعد دیکھنے میں آئی۔

اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کی برادری خاصے منظم اور ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں ہے۔

حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والوں اور اسپتال میں خون کے عطیات دینے والوں میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں۔

احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے سلام بھٹی بھی یہیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خون کا عطیہ دینے والوں کی قطار ایک کلومیٹر سے بھی طویل ہے۔

سلام بھٹی امریکہ میں احمدی فرقے کے ترجمان ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کسی کو بھی اس کے رنگ، جنس یا کسی بھی وجہ سے قتل نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس واقعے کے بہت سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ اس بارے میں ٹیری ڈیکارلو کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں ہم جنس پرستوں کے حقوق میں قابل ذکر پیش رفت اور ان کی شادیوں کو قانونی درجہ ملنے سے کچھ لوگوں میں اس کی مخالفت زیادہ ابھری۔

"گو کہ یہ مخالفت ہمیشہ سے تھی، جیسے ہم مضبوط ہوئے ہماری آواز بلند ہوئی، یہ مخالفت بھی کچھ اور بڑھ گئی۔"

XS
SM
MD
LG