رسائی کے لنکس

اسامہ بن لادن کی کچھ مزید دستاویزات جاری


اساما بن لادن (فائل فوٹو)

اسامہ بن لادن کی 2011ء میں امریکی اسپیشل فورسز کے آپریشن میں ہلاکت کے بعد، ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں واقعہ ان کے مکان سے بڑی تعداد میں دستاویزات قبضہ میں لی گئی تھیں۔

امریکہ کی حکومت نے جمعرات کو پچاس کے قریب ایسی دستاویزات جاری کی ہیں جو القاعدہ کے راہنما اسامہ بن لادن کی زندگی کے بعض اُن پہلوں سے متعلق ہیں جب وہ ایبٹ آباد میں ایک مکان میں روپوش تھے۔

اسامہ بن لادن کی 2011ء میں امریکی اسپیشل فورسز کے آپریشن میں ہلاکت کے بعد، ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں واقعہ ان کے مکان سے بڑی تعداد میں دستاویزات قبضہ میں لی گئی تھیں۔

ان دستاویزات میں وہ خطوط بھی شامل ہیں جو بن لادن نے دوسرے افراد کے نام لکھے تھے اور ان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ القاعدہ کے راہنما کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی سوچ امریکہ، اس کے مغربی اتحادیوں اور امریکہ کی حامی حکومتوں کے خلاف کارروائیاں کرنے پر مرکوز تھا۔

ایک خط میں بن لادن نے "گونتاناموبے اور ابو غریب جیل میں (مبینہ) تشدد" کا حوالے دیتے ہوئے لکھا کہ "لوگوں نے امریکہ سے کبھی بھی اتنی نفرت نہیں کی جتنی انہیں اب ہے۔"

شیخ محمود کے نام لکھے گئے ایک خط، جس پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے انہوں نے کہا کہ "ہر ایک کو اپنے اختلافات ختم کرتے ہوئے اپنی توجہ بڑے حریف کو ختم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیئے۔"

تاہم یہ واضح نہیں کہ شیخ محمود کون تھے۔

امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے جمعرات کو جاری کی جانے والی دستاویزات میں ایسے خطوط بھی شامل ہیں جن میں اسامہ بن لادن کی سوچ کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں، جب وہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک مکان میں روپوش تھے۔

ان دستاویزات پر کام کرنے والے ایک تجزیہ کار کے مطابق "منظر عام پر آنے والی یہ دستاویزات عالمی سیاست کو عدم استحکام سے دو چار کرنے سے متعلق بن لادن کی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔"

ان دستاویزات کے مطابق بن لادن نے عرب بہار کو ایک "عبوری دور" قرار دیتے ہوئے "عرب دنیا میں انقلاب سے متعلق اپنے نظریے" کو فروغ دینے کی ضرورت کے بارے میں لکھا۔

کچھ خطوط سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں پوری طرح آگاہ تھے۔

اس تمام عرصے کے دوران وہ ایران کے بارے میں بد اعتمادی کا شکا رہے اور انہوں نے اپنے خاندان کی ایران کے طرف سے کی جانے والی میزبانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے "ایک ظالمانہ جیل" قرار دیا۔

اپنے بیٹوں عثمان اور محمد کے نام لکھے گئے خط میں بن لادن نے انہیں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ "ایران کے اسپتالوں میں کسی بھی مشکوک سرگرمی سے آگاہ رہیں۔"

" اگر وہ آپ کو کوئی ٹیکہ لگائیں تو یہ ایسا ٹیکہ بھی ہو سکتا ہے جس میں کوئی چھوٹی چپ بھی شامل ہو۔"

یہ پہلی بار نہیں تھا کہ القاعدہ کے راہنما نے اپنے خاندان کے ارکان کے ایران کا دورہ کرنے کے بعد ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے جانے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

گزشتہ سال جاری ہونے والی دستاویزات میں شامل ایک خط میں بھی بن لادن نے اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ کے دانت کے علاج کے دوران کوئی ایسا آلہ نصب کر دیا گیا ہو گا، اگرچہ مبینہ طور پر ایسا کرنے کا الزام انہوں نے امریکہ پر عائد کیا تھا۔

اپنی بہن ام عبد الرحمان کے نام لکھے گئے خط میں بن لادن نے اس امید کا اظہار کیا وہ بہت جلد ان سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے لکھا "ذرائع ابلاغ میں جاری ہونے والی اوباما کی تقریر میں کہا گیا ہے کہ وہ چھ ماہ کے بعد امریکہ سے اپنی فورسز کو واپس بلا لیں گے"۔

"حالات اچھے ہو جائیں گے اور ہماری نقل و حرکت آسان ہو جائے گی۔"

XS
SM
MD
LG