رسائی کے لنکس

افغان طالبان نے پاکستانی علاقے ایبٹ آباد میں کیے گئے امریکی فورسز کے ایک آپریشن میں اسامہ بن لادن کے مارے جانے کی خبر پر اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے منگل کے روز میڈیا کو بذریعہ ای میل بھجوائے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے ایسے قابلِ اعتبار شواہد جاری نہیں کیے جن کی بنیاد پر اس دعویٰ کی تصدیق کی جاسکے کہ اسامہ ایبٹ آباد میں کی گئی کاروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اسامہ کی لاش اور اسے سمندر بدر کیے جانے کی تصاویر جاری کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

طالبان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے قریبی ذرائع نے القاعدہ رہنما کی ہلاکت کی خبر کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ بیان کے مطابق بن لادن کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے ان کی موت کے باقاعدہ اعلان کے بعد ہی طالبان اس حوالے سے اپنا ردِ عمل دینگے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ۱1996ء سے 2001ء کے درمیانی عرصہ پر محیط اپنے اقتدار کے دوران اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو افغانستان میں پناہ فراہم کی تھی۔

بعد ازاں 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ نے طالبان سے اسامہ کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم طالبان کی جانب سے امریکی مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کے بعد اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کرکے انہیں اقتدار سے بےدخل کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG