رسائی کے لنکس

آج کی جدید دنیا میں ابھی تک پاکستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں کے مرد اپنی بیٹیوں اور بیگمات کے پڑھنے لکھنے، کام کرنے یا آگے بڑھنے کی جستجو کےمخالف ہیں:شرمین عبید چنائے

شرمین عبید چنائے نے فلم بنانے کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ بس، ا ُنھوں نے اپنے شوق اور جستجو سے یہ ہنر سیکھا اور اپنی صلاحیت کی بنا پر آسکر ایوارڈ کی دستاویزی فلم سازی کی کیٹگری میں نامزدگی کی فخریہ سطح تک پہنچی ہیں۔

پاکستان میں خواتین پر تیراب پھینکنے کی گھناؤنی حرکت کےبارےمیں دستاویزی فلم بنانے والی باہمت شرمین نے’ وائس آف امریکہ‘ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی جدید دنیا میں ابھی تک پاکستان کے ایسے علاقے ہیں جہاں کے مرد اپنی بیٹیوں اور بیگمات کے پڑھنے لکھنے، کام کرنے یا آگے بڑھنے کی جستجو کےمخالف ہیں۔ اُن کے بقول،بس، یہ اُن کی مردانگی کا سوال ہے؟

اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کی آبادی پچاس فی صد ہے، جہاں وہ باصلاحیت اور باہمت ہوتے ہوئے ناکارہ بنائی جارہی ہیں، جب کہ پاکستانی خواتین نے ہر شعبہٴ زندگی میں ہمیشہ اپنے آپ کو منوایا اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔

شرمین ابھی تک ایشیا، یورپ، افریقہ اور شمالی امریکہ کے لوگوں کے بارے میں کئی فلمیں بنا چکی ہیں۔ پاکستانی خواتین کے بارے میں آسکر تک کی نامزدگی پانے والی اُن کی یہ فخریہ ڈوکیومنٹری بھی صرف پاکستان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نہیں بلکہ بین الاقوامی ناظرین کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے۔

خواتین کے لیے پیغام میں شرمین کا کہنا تھا کہ اُنھیں امید کے دامن کو تھامے رکھ کرآگے بڑھنا ہوگا۔ اُن کے بقول، اگر ہم اندھیرے میں سوچیں کہ ہمارا مقدر صرف پیچھے رہنا ہے، تو ہم فی الواقع پیچھے رہ جائیں گے۔

’اگر ایسا ہوا، تو پھر تو ہم نے ہار مان لی! مگر ہم نے ہار نہیں ماننی۔ بازی جیتنی ہے۔ جس کے لیے ہمیں حوصلے کے ساتھ محنت کرنی ہوگی‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG