رسائی کے لنکس

اوسلو ریلوے اسٹیشن کو مشتبہ بیگ کی اطلاع پر خالی کرالیا گیا


آندرے بیرنگ بریوک

آندرے بیرنگ بریوک

بریوک کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے موکل کے بقول اس نے خود کو "مضبوط، توانا اور چاق و چوبند" رکھنے کی غرض سے ادویات کا استعمال بھی کیا تھا۔ وکیلِ صفائی کےمطابق ملزم کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک اسلام مخالف نیٹ ورک کا حصہ ہے جس میں ناروے کے دو گروپوں کے علاوہ بیرونِ ملک کے کئی گروہ بھی شامل ہیں۔

ناروے کے ریلوے حکام نے کہا ہے کہ ایک مشتبہ بیگ کی موجودگی کے باعث دارالحکومت اوسلو کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے کچھ حصوں کو خالی کرالیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ناروے کی ریلوے اتھارٹی کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ مشتبہ سوٹ کیس اسٹیشن کے اس مقام پر پایا گیا جہاں سے بسیں مسافروں کو لے کر ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ ناروے میں سکیورٹی گزشتہ ہفتے ہونے والے بم دھماکے اور فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد سے ہائی الرٹ ہے جن میں 76 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثناء پولیس نے اوسلو میں ہونے والے بم دھماکا اور ایک نزدیکی جزیرے پہ جاری نوجوانوں کے ایک کیمپ میں ہونے والی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے ناموں کا اجراء شروع کردیا ہے۔

ادھر حملوں کا اعتراف کرنے والے مقامی شہری آندرے بیرنگ بریوک کے وکیل کا کہنا ہے کہ مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا موکل خبطی ہے۔

منگل کو اوسلو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکیلِ صفائی گیر لیپسٹاڈ کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ ان کے موکل کی جانب سے حالتِ دیوانگی کو مقدمے میں اپنے دفاع میں پیش کیا جائے گا یا نہیں۔

وکیل نے بتایا کہ ملزم کو واقعہ میں ہونے والے جانی نقصان اور اس پر عوامی ردِ عمل سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

بریوک نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود پر عائد کردہ دہشت گردی کے الزامات کی صحت سے یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ اس کا اقدام یورپ کو بڑھتی ہوئی اسلامائزیشن سے بچانا تھا۔

پولیس نے منگل کو اوسلو سے 160 کلومیٹر شمال میں واقع بریوک کے زیرِاستعمال فارم پر چھاپہ مار کے وہاں موجود دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنادیا تھا۔ بریوک نے کرایہ پر حاصل کیے گئے مذکورہ فارم کی آڑ میں 6 ٹن کھاد خریدی تھی جسے اس نے بعد ازاں بم بنانے میں استعمال کیا۔

بریوک کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے موکل کے بقول اس نے خود کو "مضبوط، توانا اور چاق و چوبند" رکھنے کی غرض سے ادویات کا استعمال بھی کیا تھا۔ وکیلِ صفائی کےمطابق ملزم کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک اسلام مخالف نیٹ ورک کا حصہ ہے جس میں ناروے کے دو گروپوں کے علاوہ بیرونِ ملک کے کئی گروہ بھی شامل ہیں۔

وکیلِ صفائی گیر لیپسٹاڈ

وکیلِ صفائی گیر لیپسٹاڈ

تاہم ناروے کی پولیس اور تجزیہ کاروں نے ملزم کے اس دعوے کی صداقت پر شک کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ بریوک نے مذکورہ کارروائی تنہا انجام دی۔

اس سے قبل ناروے کے وزیرِانصاف نٹ اسٹار برجٹ نے جمعہ کو ہونے والے حملوں پر پولیس کے ردِ عمل کو سراہتے ہوئے اہلکاروں کی تعریف کی تھی۔

ان کا بیان ذرائع ابلاغ میں ہونے والی اس تنقید کے جواب میں سامنے آیا تھا جس میں پولیس پر یٹویا جزیرے پر ہونے والے فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اسے جائے وقوعہ پر پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زائد کا وقت لگا تھا۔

ملزم کے والد اور سابق نارویجن سفارت کار جینز بریوک نے فرانس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی حرکت پر شرمندہ ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کا بیٹا یہ سب کرنے کے بجائے خود کو ہی ہلاک کرڈالتا۔

ادھر واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما نے نائب صدر جوبائڈن کے ہمراہ ناروے کے سفیر کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعزیت کی۔

اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ انسانی جانوں کے زیاں پر دل گرفتہ ہیں۔ انہوں نے ناروے کے عوام کو یقین دلایا کہ امریکہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

XS
SM
MD
LG