رسائی کے لنکس

مشترکہ ماضی کو تلاش کرتی ایک فلم، 'آؤٹ آف کارڈوبا'

  • عمران صدیقی

مشترکہ ماضی کو تلاش کرتی ایک فلم، 'آؤٹ آف کارڈوبا'

مشترکہ ماضی کو تلاش کرتی ایک فلم، 'آؤٹ آف کارڈوبا'

جیکوب بینڈر ایک امریکی یہودی فلم میکر ہیں جو آج کل اپنی نئی فلم Out of Cordoba کی دنیا بھر میں سکریننگس کے سلسلسے میں خاصے مصروف ہیں ۔ جیکوب نے اپنی فلم میں اندلس یا مسلم سپین کے اس دور کی منظرکشی کی ہے جب تقریباً ہزار برس قبل مسلمان اور یہودی اسی اندالس میں ساتھ رہتے اور کام کر تے تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں اور یہودیوں نے مل کر دنیا کو جغرافیہ ، ریاضی، فلکیات، طبیعات، اور طب جیسے ایسے علوم سے پہلی بار متعارف کرایا تھے جو آج بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
جیکوب نے اپنی فلم میں اس دور کی دو نامور شخصیات "اوریوس" اور "میموندئیس" کے کارناموں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

جیکوب کا کہنا ہے کہ 9/11 کے بعد دنیا کے بیشتر لوگ مسلمانو ں کو اس سانحے کا ذمہ دار ٹہرا رہے تھے جو ان کی نظر میں ایک زیادتی تھی۔ جیکوب چاہتے تھے کہ وہ اس الزام کا کوئی جواب دیں اور وہ بھی اس طرح کہ اس جواب میں ایک ایسے زمانے کا ذکر ہو جب مسلمان، یہودی اور عیسائی مل کر کام کر رہے تھے۔

جیکوب کہتے ہیں کے ایک طرف وہ لوگ تھے جو کہہ رہے تھے کہ ان تینوں تہذیبوں کے بیچ سخت لڑائی یا جنگ متوقع ہے جسے کہا جاتا ہے۔ clash of civilizations اور دوسری جانب وہ لوگ تھے جو ماضی کی جانب دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اگر قرطبہ میں ایک ایسا دور گزرا ہے جب ان تینوں مذاہب کے ماننے والے امن کے ساتھ رہتے اور کام کر تے تھے تو پھر دوبارہ ایسا دور کیوں نہیں آسکتا؟

اور یہی جیکوب کی فلم کا مقصد ہے کہ آج کی دنیا کے سامنے ایک ایسے ہی مثبت دور کی منظر کشی کی جاسکے۔

جیکوب کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک یہودیوں نے مسلمانوں کے ساتھ پر امن فضا میں وقت گزارا ہے اور ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال انہیں اپنی تحقیق کے دوران دو ایسی شخصیات کی شکل میں ملی جنہوں نے اپنی زندگی مسلمانو ں اور یہودیوں کو قریب لانے میں گزاری اور دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی مستقبل میں آنے والی نسلوں کے لئے ایک انقلابی پیغام چھوڑا۔.

اوریوس ایک مسلمان محقق اور میموندئیس ایک یہودی عالم تھے۔ بقول جیکوب ان دونو ں شخصیات کی زندگیوں پر نظر ڈالنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کس طرح ان دونوں روشن خیال حضرات نے مذہب ، سائنس ، ریاضی اور دوسرے معاشرتی علوم کے بارے میں لکھا اور اندلس کے اس دور میں اپنی ساکھ بنائی۔.

جیکوب کی خواہش ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ان دونوں محققین کے بارے میں جانیں اور ان کی زندگیوں سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں، خاص طور پر یورپ اور مغرب کے عوام جو سمجھتے ہیں کہ اسلام ان کے ملکوں پر قابض ہو رہا ہے۔ بقول جیکوب ان لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام بنیادی طور پر یورپ میں پروان چڑھنے والا مذہب ہے جس نے یورپ اور مغرب کی ثقافتوں کو آگے بڑھنے میں بے حد مدد فرہم کی ہے۔

جیکوب مزید کہتے ہیں کہ مغرب کے سائنسی انقلاب کی بنیاد اصل میں مسلمانوں نے ڈالی تھی اور یہ پہلو مغرب کی ترقی میں نمایاں نظر آتا ہے ۔ ان کے مطابق اگر آپ موجودہ یورپی مضامین، جیسے فلکیات، ریاضی اور علم الکیمیا پر نظر ڈالیں تو آپ کو قرطبہ کے دور کی چیزیں ہی ا ن کی بنیاد کے طور پر ملیں گی۔

جیکوب کہتے ہیں کہ مغرب کے عوام اپنی ترقی کا سبب اپنے آپ کو ٹہراتے ہیں جبکہ انہیں اپنے سے قبل کے اسلامی محققین کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

جیکوب سے یہ سوال پوچھا گیا کہ چونکہ امریکیوں اور یہودیوں کے بارے میں مسلم دنیا میں اچھے تاثرات نہیں پائے جاتے تو پھر وہ کس طرح ایک یہودی امریکی ہونے کے باوجود مسلمانوں کے بارے میں اتنی پر امید باتیں کر رہے ہیں؟

اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ماضی پر جتنی بھی ریسرچ کی ہے اس سے ان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ مغربی دنیا اسلام کی قرض دار ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کے یہودیوں نے 800 سال سے بھی زیادہ عرصہ مسلم دنیا میں گزارا ہے اور وہاں انہوں نے ایک محفوظ اور اچھی زندگی گزاری۔

جیکوب کے مطابق یہودی ثقافت نے اسلام سے علوم و فنون اور دوسرے مضامین کے بنیادی ڈھانچے لئے ہیں اور یہودی زبان کی گرامر میں یہ ڈھانچے آپ کو نمایا ں طور پر نظر آتے ہیں اور اسی لئے عربی اور عبرانی زبانوں میں آپ کو بہت سے مشترکہ پہلو ملیں گے۔ جیکوب نے یہ بھی کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ آپ یہودی ثقافت کو اسلامی ثقافت کے بغیر سمجھیں کیونکہ اصل میں دونوں ایک دوسرے پر انحصار کرچکی ہیں۔ مگر جیکوب اس بارے میں بات کرنے والے اکیلے یہودی نہیں۔ بقول فلمساز جیکوب بینڈر کہ بیشمار دانشور یہی بات کر رہے ہیں مگر ان دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے یہ نظریہ اجنبی ہے۔

XS
SM
MD
LG