رسائی کے لنکس

متعدد مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی میں روسی فوجیوں کی مداخلت کے باعث باغیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے، جو محض چند ہی ہفتے قبل تک حکومتی افواج کے ہاتھوں کمزور پڑ چکے تھے

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو کی اِس رپورٹ کے ایک بعد کہ علیحدگی پسندوں کی مدد کرنے والی زیادہ تر روسی افواج وطن واپس چلی گئی ہیں، نیٹو نے بتایا ہے کہ تقریباً 1000 روسی فوجی ’اب بھی‘ یوکرین کے اندر موجود ہیں۔

مسٹر پوروشنکو نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ یوکرین میں موجود روسی فوجیوں میں سے 70 فی صد سرحد پار کرکے واپس چلے گئے ہیں، جس کے بعد یہ امید ہو چلی تھی کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے جنگ بندی کا سمجھوتا قائم رہے گا۔


جمعرات کے روز نیٹو کے ایک اہل کار نے بتایا کہ اتحاد کے پاس اس متعلق کوئی اطلاع نہیں۔ نامعلوم اہل کار نے کہا ہے کہ اس طرح کی پیش رفت ’ایک اچھا ابتدائی قدم‘خیال کیا جائے گا۔

اہل کار نے بتایا کہ مشرقی یوکرین میں اب بھی کافی مقدار میں فوجی آلات موجود ہیں اور اندازاً 20000 فوجیں روسی سرحد پر موجود ہیں۔

روس نے اِن خبروں کو مسترد کیا ہے کہ اُس نے یوکرین کی طرف فوجی اور ہتھیار بھیجے ہیں، حالانکہ علیحدگی پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ روسی فوجی اُن کی مدد کر رہے ہیں، جو اپنی تعطیلات کے دوران یوکرین کی سرزمین پر یوکرین کی فوجوں سے آ کر لڑتے رہے ہیں۔

متعدد مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی میں روسی فوجیوں کی مداخلت کے باعث باغیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے، جو محض چند ہی ہفتے قبل تک حکومتی افواج کے ہاتھوں کمزور پڑ چکے تھے۔

یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل نے جمعرات کو رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ علیحدگی پسند افواج نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ والےعلاقے میں اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے، جو روسی سرحد کے ساتھ کا علاقہ ہے اور جنوب میں بحیرہ ازوف سے جا کر ملتا ہے۔

XS
SM
MD
LG