رسائی کے لنکس

عالمی موسمیاتی ادارے کی ‘اوزون تہہ’ کو محفوظ رکھنے کی کوششیں

  • شہناز نفیس

اوزون کی تہہ کو بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری نے ایسے مواد کو، جو اوزون کی تہہ کو ختم کرتے ہیں، پابندی لگانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اِس معاہدے کا براہِ راست فائدہ صحتِ عامہ کو بھی پہنچتا ہے۔

اوزون کی تہہ زمین پر حیات کو ‘الٹرا وائلیٹ ’ شعاؤں سے محفوظ رکھتی ہے۔

سائنسدان کہتے ہیں کہ بیسویں صدی کے آخرتک خیال کیا جارہا تھا کہ اوزون کی یہ تہہ باریک ہوتی جارہی تھی جِس کی ایک وجہ ‘ایروسول ایکس ریز’ اور ریفریجریٹرز سے خارج ہونے والا کیمیائی مادہ ہے۔

اوزون کی تہہ کو بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری نے ایسے مواد کو، جو اوزون کی تہہ کو ختم کرتے ہیں، پابندی لگانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔اِس معاہدے کا براہِ راست فائدہ صحتِ عامہ کو بھی پہنچتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اِس معاہدے کے بغیر اوزون کی سطح کونقصان پہنچانے والےمواد میں 2050ء تک دس گنا اضافہ ہوسکتا تھا اور اُس کی وجہ سے جِلد کے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں دو کروڑ جب کہ آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں 13کروڑ تک اضافہ ہو سکتا تھا۔

اوزون کی باریک سطح انسان کی قوتِ مدافعت کے نظام ، جنگلی حیات اور زراعت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

XS
SM
MD
LG