رسائی کے لنکس

پاک افغان رابطوں میں تسلسل پر زور


پاک افغان رابطوں میں تسلسل پر زور

پاک افغان رابطوں میں تسلسل پر زور

افغان اور پاکستانی اراکین پارلیمان نے تناؤ کے شکار دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا عزم کرتے ہوئے عوامی و سیاسی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے قانون سازوں کے وفود کا دو روزہ اجلاس منگل کو اسلام آباد میں شروع ہوا، اور پہلے دن کے سیشن میں پاک افغان تعلقات میں موجودہ کشیدگی کو کم کرنے اور تجارتی روابط میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دارالحکومت کے ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والے اس اجلاس کے افتتاحی سیشن کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے رکن پارلیمان اسحاق گیلانی نے کہا کہ ’’باہمی شکایات‘‘ کے باوجود دونوں ممالک کے منتخب نمائندوں کے درمیان روابط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

’’اس وقت افغانستان اور پاکستان دونوں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے حل کے لیے دونوں ممالک کے اراکین پارلیمان کا حق بنتا ہے کہ وہ روابط کو بہتر کرنے میں کردار ادا کریں۔‘‘

پاک افغان رابطوں میں تسلسل پر زور

پاک افغان رابطوں میں تسلسل پر زور

اجلاس میں پاکستانی وفد میں شامل سینیٹ کی امور خارجہ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم سیف اللہ خان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے اراکین کے درمیان رابطوں سے صورت حال بہتر ہو گی اور اسے فروغ دینے کے لیے دونوں حکومتوں کو چاہیئے کہ اراکین پارلیمان کے سفر پر ویزے کی شرط ختم کر دی جائے۔

’’دنیا اب تجارت کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ میری یہ تجویز ہے کہ پاکستان کا جو کارروباری طبقہ ہے ان کو (افغانستان) میں خاص مراعات دی جائیں کیوں کہ افغانستان حالت جنگ میں ہے تاکہ یہاں کے جو صنعت کار اور کاروباری حضرات ہیں وہ وہاں کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کریں۔ (افغان) حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے سرمایہ کاروں کو بھی مراعات دیں کہ وہ پاکستان میں آ کر سرمایہ کاری کر سکیں۔‘‘

پاکستانی اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ کابل کے ساتھ بلاتعطل تعلقات استوار کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیوں کو بروقت ختم کیا جا سکے۔

2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی تھی اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا تھا۔

لیکن رواں سال افغان امن کونسل کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کی خودکش حملے میں ہلاکت، کابل میں عاشورہ کے ماتمی اجتماع پر بم حملے، سرحد پار سے مفرور پاکستانی شدت پسندوں کی کارروائیوں اور مہمند ایجنسی میں نیٹو کے مہلک فضائی حملے کے بعد دوطرفہ تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔

پاکستان کا الزام ہے کہ افغان حکومت اپنے ہاں موجود دہشت گرد عناصر کی کارروائیاں روکنے میں ناکام ہوئی ہے اور اسی وجہ سے شدت پسندوں کے حملوں کی ذمہ داری اسلام آباد پر عائد کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG