رسائی کے لنکس

اے این پی کے مرکزی رہنما سینٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد عارضی طور پر نہیں مکمل طور پر کھولی جائے اور حالات پہلے کی طرح معمول پر لائے جائیں۔

وی او اے سے خصوصی گفتگو میں سینٹر شاہی سید کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کی روک تھا م کے لئے سرحد بند کرنا مسئلے کا حل نہیں اور اس طرح کے اقدامات سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا صرف دہشت گرد اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

"مسلئے کا حل یہ ہے کہ اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ پرامن افغانستان پر امن پاکستان کی گارنٹی اور پر امن پاکستان پر امن افغانستان کی گارنٹی ہے "۔

پاکستان نے منگل کی صبح افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر طورخم اور چمن کی گزر گاہیں عارضی طور پر کھول دی ہیں جس سے سرحد کے آر پار آمد ورفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی گزر گاہوں کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک سرحد کے ساتھ واقع علاقوں سے دہشت گردی میں ملوث عناصر کا مکمل صفایا نہیں کر دیا جاتا ہے۔اسی سلسلے میں پاکستان نے گزشتہ ماہ ملک کے مختلف حصوں میں مہلک دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد یکطرفہ طور پر بند کر دی تھی۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی شام پارلیمان کے ایوان زیریں میں پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کرنے کا دفاع کیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایک بیان میں الزام لگایا کہ پاکستان میں حملہ کرنے والے شدت پسندوں کی پناگاہیں افغانستان میں ہیں۔

اے این پی کے مرکزی رہنما سینٹر شاہی سید کا مزید کہنا تھا کہ سرحد کی دونوں جانب ایسے خاندان بستے ہیں جو آدھے أفغانستان میں اور آدھے پاکستان میں رہتے ہیں لہذا انہیں جدا کرنا اور سرحد بند کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ سرحد کی بندش سے خاص طور پر دونوں جانب کے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں لہذا حکومتیں اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے دور کریں اور گزرگاہوں کو کھول دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG