رسائی کے لنکس

سرحدی راستے کھلنے کے بعد ہزاروں افغانوں کی وطن واپسی

  • شمیم شاہد

Chaman Border 8

پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ طورخم اور چمن کے مقام پر سرحدی راستے سات اور آٹھ مارچ کو عارضی طور پر دو روز کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

طورخم اور چمن کے مقام پر پاک افغان سرحدی راستے بدھ کو دوسرے روز بھی کھلے رہے اور حکام کے مطابق اب تک لگ بھگ 20،000 سے زائد افغان اور پاکستانی شہریوں نے اپنے اپنے ممالک میں داخلے کے لیے سرحد عبور کی۔

بدھ کو ہزاروں افغان طورخم کے مقام پر صبح ہی سے سرحدی راستے کھلنے کے انتظار میں کھڑے نظر آئے، جن میں خواتین اور بچے شامل بھی شامل تھے جب کہ ایسی ہی صورت حال چمن میں بھی نظر آئی۔

پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ طورخم اور چمن کے مقام پر سرحدی راستے سات اور آٹھ مارچ کو عارضی طور پر دو روز کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن صرف ایسے افغان جو ویزا لے کر پاکستان آئے تھے اور اپنے ملک واپس جانے کے خواہمشند تھے صرف اُن ہی افراد کے لیے یہ راستے کھولے گئے، جب کہ ایسے پاکستانی جو ویزا کے حصول کے بعد افغانستان گئے تھے وہ بھی واپس آئے۔

تاہم یہ سرحدی راستے تجارت کے لیے تاحال بند ہیں۔

طورخم کے تحصیلدار شمس الاسلام نے بدھ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صبح کے اوقات میں افغانوں کی بڑی تعداد سرحد سرحد پار جائے گا جمع تھی لیکن یہ سہ پہر تک صرف ایک دکا لوگ ہی باقی رہ گئے تھے۔

"عام طور پر تو سرحد رات آٹھ بجے تک کھلی رہتی ہے لیکن اب رش کو دیکھنا پڑے گا کہ کتنی دیر سرحد کھلی رکھی جاتی ہے۔ جو لوگ صبح سے جمع تھے وہ تو تقریباً جا چکے ہیں مچنی چیک پوسٹ پر تھے، شہید موڑ اور طورخم میں تھے وہ جا چکے ہیں اب اکا دکا لوگ ہی آ رہے ہیں۔"

گزشتہ ماہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے مہلک حملوں میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے سلامتی کے خدشات کی وجہ سے پاک افغان سرحدی راستے بند کر دیئے تھے۔

سرحدی راستوں کی بندش کے سبب ایسے افغان جو باقاعدہ سفری دستاویزات کے ساتھ پاکستان میں موجود تھے وہ یہیں پھنس کر رہ گئے۔

افغان عہدیداروں کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان افغانستان سے اپنے سرحدی راستے ہر طرح کی آمد و رفت کے لیے کھول دے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش سے دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں لہذا پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ سفارتی اور سیاسی طور پر افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات کو طے کریں تاکہ دونوں جانب کے عوام کی پریشانیوں کا ازالہ ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG