رسائی کے لنکس

افغان صدر کی طرف سے اسٹریٹیجک شراکت داری کی تجویز ’خوش آئند‘

  • ج

افغان صدر حامد کرزئی (فائل فوٹو)

افغان صدر حامد کرزئی (فائل فوٹو)

افغان صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں پاکستان کے ساتھ اسٹریٹیجک پارٹنر شپ معاہدہ کرنے میں خوشی ہو گی لیکن ایسا کرنے سے قبل افغانستان کے خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستان کی سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین حاجی محمد عدیل نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی جانب سے پاک افغان اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کی تجویز کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

افغان صدر نے جمعرات کو کابل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں پاکستان کے ساتھ اسٹرایٹیجک پارٹنر شپ معاہدہ کرنے میں خوشی ہو گی لیکن ایسا کرنے سے قبل افغانستان کے خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔

اُنھوں نے مجوزہ معاہدے پر پیش رفت سے قبل اپنی کئی شرائط کا اعلان بھی کیا جن میں ان کے بقول دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمہ اور افغانستان کو تباہی سے دو چار کرنے والے عناصر کا قلعہ قمع کرنا ہے۔

مزید برآں صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ دوستانہ تعلقات بھی اس کے لیے نا گزیر ہیں جن کا ان کے بقول ابھی آغاز ہی نہیں ہوا ہے۔

افغان صدر کے اس بیان میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹ کی کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے سربراہ حاجی عدیل نے کہا ہے کہ سرحدوں پر دہشت گرد افغانستان کی جانب سے بھی پاکستانی اہداف پر حملہ آور ہو رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ دونوں جانب ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سینیٹر حاجی عدیل

سینیٹر حاجی عدیل



’’پارٹنر شپ تو ہونی چاہیئے، تجارت میں تعلقات بہتر ہونے چاہیں۔ ہم جب بھارت کے ساتھ ویزوں کے اجرا میں نرمی کر رہے ہیں تو افغانستان کے ساتھ بھی ویزوں کے اجرا کی جو شرائط ہیں انھیں اور کم کرنا چاہیئے۔‘‘

سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ پاکستان نے سرحد کی حفاظت کے لیے اپنی جانب موثر اقدامات کیے ہیں اور ایک ہزار سے زائد چوکیاں بھی قائم کی ہیں مگر دوسری جانب افغانستان میں طویل سرحد پر چوکیوں کی تعداد محض ایک سو ہے۔

’’ہم ان لوگوں (دہشت گردوں) کو یہاں روکیں اور ان کے خلاف کارروائی کریں جیسے ہمارے مختلف جگہوں پر آپریشن ہو رہے ہیں وہ بھی کریں۔ وہاں تو ہم سے زیادہ طاقتور فورسز موجود ہیں نیٹو کی ہیں افغان نیشنل آرمی بھی بن رہی ہے۔ اس کا ایک حل یہ دونوں ملک ایک جوائنٹ کمیٹی بنائیں جو سرحدی علاقے کا دورہ کر کے اس کا معائنہ کرے۔‘‘

حاجی عدیل نے کہا کہ اب بھی پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین آباد ہیں اور ان کے بقول افغانستان کے ایوان زیریں کے اراکین میں سے 10 فیصد ممبران پاکستان ہی سے تعلیم مکمل کر کے گئے ہیں اس لیے طویل المدت تعلقات میں وہ بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا اس تناظر میں دونوں ملکوں کے پاس دوستانہ تعلقات استوار کر کے قربتوں کو بڑھانے کے سوا کوئی چار نہیں اس لیے باہمی الزام تراشی کسی ملک کے مفاد میں نہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG