رسائی کے لنکس

پاکستان نے مزید تین افغان طالبان قیدی رہا کر دیے


قیدیوں کی رہائی سے ایک ہفتہ قبل افغانستان کی اعلٰی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی نے ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

افغانستان میں جاری امن و مصالحت کے عمل میں معاونت کے لیے پاکستان نے مزید تین افغان طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا تاحال باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا ہے، مگر وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے بدھ کو اس اقدام کی تصدیق کی۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تینوں طالبان قیدیوں کی رہائی کب عمل میں آئی اور آیا وہ اب بھی پاکستان میں موجود ہیں یا نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’یہ اقدام پاکستان کے اس عزم کا حصہ ہے کہ افغانستان میں سرگرم طالبان جنگجوؤں سے مصالحت سے متعلق کابل حکومت کی کوششوں کی ہر ممکن حمایت کی جائے گی‘‘۔

پاکستان اس سے قبل 34 طالبان قیدیوں کو مختلف مراحل میں رہا کر چکا ہے، جن میں سے سب سے نمایاں افغان طالبان کے سابق نائب امیر ملا عبد الغنی برادر ہیں۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ افغان حکام کی مشاورت سے طالبان قیدیوں کی رہائی فرقین کے بیچ اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے مگر اس بات ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ افراد امن و مصالحت میں کوئی نمایاں کردار ادا کریں گے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بین الاقوامی اُمور کے ماہر ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تینوں طالبان قیدیوں کی رہائی ملا عبدالغنی برادر اور افغان حکام کی سفارش پر ہی کی گئی ہوگی۔

’’افغان طالبان کے امیر ملا عمر پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ صرف ملا عبدلاغنی برادر کو رہا کرنے سے کام نہیں ہوگا (کیوں کہ) اور بھی لوگ ہیں (جن کی رہائی ضروری ہے)۔‘‘

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی نے وفد کے ہمراہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جہاں اُنھوں نے وزیر اعظم نواز شریف سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے افغان وفد کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان ہمیشہ پُر امن، مستحکم اور متحد افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

اس موقع پر یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئیں کہ اعلیٰ امن کونسل کا وفد ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کا بھی خواہشمند ہے، لیکن اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق ملا عبدالغنی برادر رہائی کے بعد پاکستان ہی میں ہیں اور وہ کسی سے بھی ملاقات کے لیے آزاد ہیں۔

امریکی اور بین الاقوامی لڑاکا افواج کے 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے انخلاء کے تناظر میں وہاں امن و مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بظاہر تیزی آئی ہے اور گزشتہ ماہ اسی سلسلے میں لندن میں افغانستان، برطانیہ اور پاکستان کا سہ فریقی سربراہ اجلاس بھی ہوا تھا۔
XS
SM
MD
LG