رسائی کے لنکس

طورخم سرحد دوسرے روز بھی آمدو رفت کے لیے بند

  • شمیم شاہد

سرحد کی بندش سے سامان خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی سرحد کے آر پار نقل و حمل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کے مقام پر اہم سرحدی گزرگاہ طورخم بدھ کو دوسرے روز بھی ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند رہی جس سے مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جب کہ مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

منگل کو پاکستانی اہلکاروں نے سرحد پر خار دار باڑ لگانا شروع کیا لیکن افغان حکام کی طرف سے اعتراض کے بعد یہ کام تو روک دیا گیا لیکن پاکستانی حکام نے سرحد کو ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا۔

اس ساری صورتحال کی وجہ سے سرحد پر کشیدگی کی فضا ہے اور پاکستان کی طرف سیکورٹی مزید سخت کرتے ہوئے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے لیویز اور خاصہ دار فورس کے اضافی اہلکاروں کو یہاں تعینات کر دیا گیا ہے۔

سرحد کی بندش سے سامان خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی سرحد کے آر پار نقل و حمل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

اس سرحدی گزرگاہ سے ہزاروں افراد روزانہ ایک سے دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہوتی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گرد بھی عام لوگوں کے بھیس میں اس راستے سے پاکستان داخل ہوتے ہیں جس کے تدارک کے لیے اس نے اپنے ہاں لوگوں کی آمد کو ایک سخت نگرانی کے مرحلے سے گزارنے کا فیصلہ کیا۔

حکام کے مطابق رواں سال جنوری میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے میں ملوث دہشت گرد بھی اسی راستے سے افغانستان سے پاکستان داخل ہوئے تھے۔

دونوں ملکوں کے عہدیدار اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ سرحد پر کسی بھی طرح کی تعمیرات کے لیے ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

حال ہی میں دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے ہونے والے اجلاسوں میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ طورخم کی سرحد پر بغیر قانونی دستاویزات کے کسی بھی افغان شہری کو یکم جون کے بعد پاکستان داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت افغان سرحد پر نقل و حرکت پر نظر رکھنا بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG