رسائی کے لنکس

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز 12فروری سے


پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز 12فروری سے

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز 12فروری سے

وزارت تجارت کے سیکرٹری ظفر محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت افغانستان میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث بعض راستوں پر پاکستانی ٹرکوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات ہو سکتی ہیں لیکن اُن کے بقول یہ حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے اور مستقبل میں اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تجارتی فائد ہ ہوگا۔

افغانستان کو پاکستان کے راستے اپنی اشیاء بھارت برآمد کرنے کے دوطرفہ معاہدے پر عمل درآمد 12 فروری سے شروع ہو گا۔

وفاقی وزیر تجارت امین فہیم کا کہنا ہے کہ ’پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ‘ معاہدے کا نفاذ دونوں ممالک کے درمیان کئی سطحوں پر ہونے والے مذاکرات میں تمام پہلووں کا تفصیلی جائزے لینے کے بعد کیا جارہا ہے۔

اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تجارتی راہدارای کے اس معاہدے کے تحت افغانستان کے سامان سے لدے کنٹینر سربمہر’سیل ‘ ہوں گے اور اُنھیں پہلے سے طے شدہ مخصوص راستے کے ذریعے لاہور کے قریب واہگہ سرحد تک لے جانے کی اجازت ہوگئی جہاں سے یہ سامان بھارت بھیجا جاسکے گا۔

امین فہیم نے بتایا کہ اس تجارت کی آڑ میں سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے پاکستان سے گزرنے والے افغان ٹرکوں کے قافلوں کی نگرانی سیٹیلائٹ’ ٹریکر‘سے کی جائے گی تاکہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ان ٹرکوں کا راستہ تبدیل نہ کیا جاسکے۔ اُنھوں نے اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ صرف افغانستان کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی ہو گا کیوں کہ پاکستانی مصنوعات کو وسط ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کیا جاسکے گا۔ تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ بھارت کو اس معاہدے کے تحت افغانستان تک اپنی برآمدات کی اجازت نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر تجارت امین فہیم اور سیکرٹری تجارت

وفاقی وزیر تجارت امین فہیم اور سیکرٹری تجارت

وزارت تجارت کے سیکرٹری ظفر محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت افغانستان میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث بعض راستوں پر پاکستانی ٹرکوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات ہو سکتی ہیں لیکن اُن کے بقول یہ حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے اور مستقبل میں اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تجارتی فائد ہ ہوگا۔

اُنھوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی راہداری کا پہلا معاہدہ 1965ء میں طے پایا تھا لیکن اُس کے مطابق پاکستان کو ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں تھی کہ وہ افغانستان کے راستے اپنی مصنوعات دوسرے ممالک کوبرآمد کر سکے۔

پاک افغان ٹرانز ٹ ٹریڈ کے سمجھوتے سے متعلق ایک دستاویز پر افغانستان اور پاکستان کے عہدے داروں نے جولائی 2010ء کے وسط میں اسلام آباد میں دستخط کیے تھے اور اس تقریب میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی شرکت کی تھی۔ پاکستانی عہدیدار اس تنقید کو مسترد کرچکے ہیں کہ پاکستان نے یہ سمجھوتا امریکہ کے دباوٴ میں کیا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان میں باربرداری کے شعبے سے منسلک افراد کو نقصان ہو گا۔

XS
SM
MD
LG