رسائی کے لنکس

پاک افغان تجارتی سمجھوتے کی حتمی منظوری

  • یاسر منصوری

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ (فائل فوٹو)

وفاقی کابینہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی سمجھوتے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے صحافیوں کو افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھوتہ پاکستان کے اقتصادی مفاد میں ہے کیوں کہ اس کے تحت برآمدی اشیاء سے لدے پاکستانی ٹرکوں کو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کی اجازت ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ سمجھوتے کے تحت افغان برآمد کنندگان پاکستان کی تجارتی راہداری کے ذریعے بھارت کو برآمد کی جانے والی اشیاء سرحدی قصبے واہگہ تک لے جا سکیں گے۔ اب تک ان اشیاء کی اندرون پاکستان باربرداری کے لیے مقامی گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس معاہدے کے بعد دوطرفہ تجارت کا حجم سالانہ دو ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

انھوں نے اِس تنقید کو ایک بار پھر مسترد کر دیا کہ پاکستان نے یہ سمجھوتا امریکہ کے دباؤ میں کیا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان میں باربرداری کے شعبے سے منسلک افراد کو نقصان ہو گا۔سمجھوتے کا دفاع کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلی بار تجارتی سمجھوتہ 1965ء میں ہوا تھا اور اس وقت سے زمین اور سمندر کے راستے تجارت کا سلسلہ جاری ہے۔

کائرہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کا شمار ان ممالک میں ہوتاہے جن کو سمندر تک براہ راست رسائی حاصل نہیں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان پر لازم ہے کہ وہ افغانستان کو تجارت کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی سہولت فراہم کرے۔

اس سمجھوتے سے متعلق ایک دستاویز پر افغانستان اور پاکستان کے عہدے داروں نے جولائی کے وسط میں اسلام آباد میں دستخط کیے تھے اور اس تقریب میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی شرکت کی تھی۔ افغان حکومت دوطرفہ راہداری کے اس معاہدے کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG