رسائی کے لنکس

افغان ٹرکوں کو واہگہ تک جانے کی اجازت


افغان مزدور ٹرک سے سامان اتار رہے ہیں (فائل فوٹو)
افغان مزدور ٹرک سے سامان اتار رہے ہیں (فائل فوٹو)

افغان عہدیدار کے مطابق ان کے تجارتی ٹرکوں کو اب تک پاکستانی حکام صرف طورخم سے پشاور یا بلوچستان میں چمن تک آنے کی اجازت دیتے تھے جو معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔

پاکستان اور افغان عہدیداروں کا کہنا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی راہداری یا ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر موثر عمل درآمد سے متعلق نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں تجارتی سامان کی ترسیل کو سہل بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔

افغان سفارت خانے میں اقتصادی اُمور کے انچارج اظہار ہادی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دوطرفہ تجارتی راہداری کے معاہدے کے نفاذ سے متعلق ان کے ملک کے ساٹھ فیصد سے زائد خدشات دور ہو گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کے تجارتی ٹرکوں کو اب تک پاکستانی حکام صرف طورخم سے پشاور یا بلوچستان میں چمن تک آنے کی اجازت دیتے تھے جو معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔

اظہار ہادی نے کہا کہ اب تازہ پھل اور خشک میوہ جات سے لدے افغان ٹرکوں کو پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ سرحد تک جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک سامان لے جانے کے حوالے سے بھی دونوں ملکوں کے مابین طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے جس میں آٹھ سے بارہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے نائب صدر دارو خان اچکزئی بھی دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شامل تھے اور ان کا کہنا ہے کہ تجارتی راہداری سے متعلق فوری نوعیت کے بیشتر مسائل حل کر لیے گئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی راہداری کا معاہدہ 2010ء میں طے پایا تھا جس کے تحت افغانستان کے سامان سے لدے ٹرکوں کو طے شدہ مخصوص راستے کے ذریعے لاہور کے قریب واہگہ سرحد تک اور کراچی میں ساحل سمندر تک لے جانے کی اجازت دی گئی تھی جہاں سے یہ سامان بھارت بھیجا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستانی ٹرکوں کو افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی دی گئی۔

پاکستان اور افغان حکام کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی ملاقات میں چار رکنی مشترکہ کمیشن بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کا مقصد ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق دونوں ملکوں کے تاجروں کے تحفظات اور مشکلات کا جلد سے جلد حل نکالنا ہے۔
XS
SM
MD
LG