رسائی کے لنکس

پاکستانی تاجروں کے لیے افغان ویزے کے اجراء میں نرمی کا خیر مقدم

  • اسلام آباد

پاکستانی وزیراعظم نے رواں ہفتے کابل کے دورہ پر صدر کرزئی سے ملاقات کی۔

پاکستانی وزیراعظم نے رواں ہفتے کابل کے دورہ پر صدر کرزئی سے ملاقات کی۔

ویزوں کے اجراء میں نرمی سے نا صرف کاروباری حلقوں کو فائدہ ہو گا بلکہ اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے عوام بھی مستفید ہوں گے۔

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے رواں ہفتے دورہ کابل میں جہاں علاقائی سلامتی کے لیے دہشت گردی کے خلاف مل کر کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا وہیں اقتصادی تعاون بڑھانے سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک دیرینہ مطالبے پر انھیں ویزوں کے اجراء میں نرمی خاص طور پر ملٹی پل ویزے کے اجراء کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور پاکستان کی تاجر و صنعت کار تنظیموں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا۔ وزیراعظم اور وفاقی وزیر برائے تجارت مخدوم امین فہیم نے ایک بیان میں کہا کہ ویزوں کے اجراء میں نرمی سے نا صرف کاروباری حلقوں کو فائدہ ہو گا بلکہ اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے عوام بھی مستفید ہوں گے۔

صنعت کاروں اور تاجروں کی ایک نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اعلیٰ عہدیدار ملک سہیل حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے تاجروں کے لیے ملٹی پل ویزوں کے اجراء کا فیصلہ خطے میں اقتصادی ترقی کا سبب بنے گا۔

’’افغانستان بالکل ہمارے ساتھ ہے اور جتنی بھی اشیاء وہاں جا رہی ہیں ان میں سے بیشتر پاکستان سے جا رہی ہیں اور اگر ملٹی پل ویزا ملے گا تو اس سے بزنس مین کو بہت فائدہ ہے کیوں کہ افغانستان میں بہت (بین الاقوامی) سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔‘‘

ملک سہیل حسین کہتے ہیں دونوں ملکوں کے تاجروں کو سفری سہولت دینے سے اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے رکن الیاس بلور بھی تاجروں کے لیے ویزہ سہولت کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ ’’بزنس مین کو آنے جانے میں آسانی ہو گی اور ان کے روابط میں اضافہ ہو گا۔‘‘

افغانستان اور پاکستان نے ایک مشترکہ اقتصادی کمیشن بھی قائم کر رکھا ہے اور رواں سال کے اوائل میں دونوں پڑوسی ممالک نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 2015ء تک تجارت کے سالانہ حجم کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG