رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی کے لیے آئینی ترمیم منظور


نئی آئینی ترمیم کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت ریاست پاکستان کے خلاف جنگ میں ملوث عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرنا ہے۔

پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے قانون سازوں نے آئین میں 21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

منگل کی صبح قومی اسمبلی میں اراکین نے ترامیم کی شق وار منظوری دی، جس کے بعد ترامیم کے مسودے کو منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا گیا۔

دونوں ایوانوں میں کسی بھی جماعت کے رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی، تاہم جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کے لیے حکومت نے بھرپور کوشش کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ خصوصی فوجی عدالتوں کا قیام دو سال کے لیے ہو گا، اور ان عدالتوں میں مقدمات وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ہی چلائے جائیں گے۔

’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دن پاکستان کے لیے ایک بڑا مبارک دن ہے کہ قوم نے واقعی فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی کے جن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جو دہشت گرد لوگ ہیں ان کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر باہر پھینکنا ہے۔ اس مہذب معاشرے میں اس قسم کی دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور دہشت گردوں کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ آئینی ترامیم میں اُن کے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا۔

’’تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو بلائیں گے، ایم ایم اے کی سابق جماعتوں کو بلائیں گے، تنظیمات مدارس کو بلائیں گے اور آج جو بل پاس ہوا ہے اس پر دیکھیں گے کہ ہمیں کیا میٹھی گولیاں کھلائی جاتی رہیں اور اس بل میں اب کیا وہ چیزیں شامل ہیں یا نہیں اس پر ہم پھر ایک جامع رد عمل دیں گے۔‘‘

نئی آئینی ترامیم کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت ریاست پاکستان کے خلاف جنگ میں ملوث عناصر کے خلاف موثر کارروائی اور دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو آئینی تحفظ دینا ہے۔

آئینی ترامیم پر ووٹنگ سے قبل قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام اسلامی جماعتوں کے خلاف نہیں بلکہ یہ دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔

’’یہ اسلامی جماعتوں کے خلاف قانون نہیں یہ صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ نے بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ ہمیں چاہے کوئی نقصان بھی ہو مگر کیوں کہ سب سے پہلے ہمارے لیے انسانوں کی زندگی اہم ہے، اس ملک میں بسنے والے، آنے والی نسلوں کی حفاظت (اہم) ہے۔ اس ملک پاکستان کے نام کو قائم رکھنے کی اہمیت ہے، چاہے ہمیں لوگ غلط بھی کہہ دیں ہمیں اس کا مسئلہ نہیں ہے مگر ہم ایک مضبوط پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

خورشید شاہ نے کہا کہ اُنھیں امید ہے کہ فوجی عدالتیں ملک کے آئین اور نئی آئینی ترامیم پر عمل درآمد کریں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ آئینی ترامیم پاکستان کے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہیں۔

پیر کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ غیر معمولی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کا یہ مطلب ہرگز نا لیا جائے کہ وہاں سے ہر کسی کو پھانسی ہی کی سزا دی جائے گی۔ وزیر داخلہ کے بقول فوجی عدالتوں میں صرف دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے اور اُنھیں صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ملک کو چھپے ہوئے دشمن کا سامنا ہے اور ان حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ماہ پشاور میں فوج کے زیرانتظام ایک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تقریباً تمام ہی حلقوں کی جانب سے موثر اقدامات کے مطالبات کیے گئے۔

بعض وہ جماعتیں یا تنظیمیں جو ماضی میں طالبان یا دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کے حق میں آواز بلند کرنے سے کتراتی تھیں، پشاور حملے کے بعد اُن کی طرف سے بھی کھل کر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث افراد کی مخالفت کی گئی۔

ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کے تحت پاکستان کے خلاف جنگ کے مرتکب عناصر، فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول و فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں، دھماکا خیز مواد رکھنے یا اس کی ترسیل میں ملوث عناصر اور مذہب کے نام پر ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف مقدمہ چلا کر سزائیں سنائی جا سکیں گی۔

مزید برآں اغواء برائے تاوان اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے گی۔

XS
SM
MD
LG