رسائی کے لنکس

فریقین مسئلہ گفتگو کے ذریعے حل کریں، پاک فوج


آزادی مارچ' اور 'انقلاب مارچ' میں شریک کارکن رکاوٹیں ہٹا کر 'ریڈ زون' میں داخل ہوگئے ہیں۔

آزادی مارچ' اور 'انقلاب مارچ' میں شریک کارکن رکاوٹیں ہٹا کر 'ریڈ زون' میں داخل ہوگئے ہیں۔

میجر جنرل باجوہ نے اپنے 'ٹوئٹس' میں کہا ہے کہ 'ریڈ زون' میں موجود عمارتیں ریاست کی علامت ہیں جن کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے حالیہ سیاسی بحران کے "تمام فریقین" پر زور دیا ہے کہ وہ بامقصد مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں۔

مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے 'ٹوئٹر' پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتِ حال تمام فریقین سے صبر و تحمل اور بردباری کا تقاضا کرتی ہے ۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے منگل کی شب جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں زور دیا ہے کہ تمام فریقین وسیع تر قومی اور ملکی مفاد میں مسئلے کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کریں۔

میجر جنرل باجوہ نے اپنے 'ٹوئٹس' میں کہا ہے کہ 'ریڈ زون' میں موجود عمارتیں ریاست کی علامت ہیں جن کی حفاظت فوج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہم قومی عمارتوں کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

فوج کے ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف کے 'آزادی مارچ' اور پاکستان عوامی تحریک کے 'انقلاب مارچ' میں شریک ہزاروں کارکن انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا کر 'ریڈ زون' میں داخل ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل منگل کی شام 'تحریکِ انصاف' کے سربراہ عمران خان اور 'عوامی تحریک' کے سربراہ طاہرالقادری کی جانب سے 'ریڈ زون' میں داخلے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے 'زون ' میں موجود اہم سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کی سکیورٹی فوج کے حوالے کردی تھی۔

خیال رہے کہ اس علاقے میں ایوانِ صدر، وزیرِ اعظم ہاؤس اور سیکریٹریٹ، قومی اسمبلی، سپریم کورٹ، وفاقی حکومت کے دفاتر کے علاوہ غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

عمران خان اور طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ وہ پرامن مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے جو وزیرِاعظم کے استعفے تک جاری رہے گا۔

XS
SM
MD
LG