رسائی کے لنکس

سال 2012 : اقلیتی عبادت گاہوں پر حملوں کے 9واقعات


مردان میں مظاہرین کے حملے کا نشانہ بننے والا ایک گرجاگھر، 22 ستمبر 2012

مردان میں مظاہرین کے حملے کا نشانہ بننے والا ایک گرجاگھر، 22 ستمبر 2012

گزشتہ برسوں کی نسبت سال 2012ء ایک ایسا سال رہا جس میں اقلیتوں کی عبادگاہوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ اس سال اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں پر حملوں کے نو واقعات ہوئے ۔ ان میں پانچ چرچ، تین مندراور ایک احمدیوں کی عبادت گاہ شامل ہیں۔

پاکستان میں ہر گزرتے سال کے ساتھ عبادت گاہوں پر حملوں کے افسوسناک رجحان میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے ۔ عمومی طور پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا غصہ ،احتجاج کرنے وا لے ان عبادت گاہوں کو توڑ پھوڑ کر اور انہیں نقصان پہنچا کر نکالتے ہیں۔

بدقسمتی سے گزشتہ برسوں کی نسبت سال 2012ء ایک ایسا سال رہا جس میں اقلیتوں کی عبادگاہوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کی جانب سے واقعات کی بنیاد پر جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق مجموعی طور پر اس سال اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں پر حملوں کے نو واقعات ہوئے ۔ ان میں پانچ چرچ، تین مندراور ایک احمدیوں کی عبادت گاہ شامل ہیں۔

رواں سال کے دوران سندھ میں تین جبکہ مردان اور فیصل آباد میں ایک ایک چرچ پر حملہ کیا گیا۔کراچی کے ایک مندرمیں توڑپھوڑ کی گئی اور دوسرے کو گرا دیاگیا ۔پشاور میں بھی ایک مندر کومسمار گیا گیا۔ پنجاب کے علاقے کھاریاں میں واقع احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار کو بھی زمین بوس کردیا گیا۔

چار برسوں میں27 اقلیتی عبادت گاہیں نشانہ بنیں

نیشنل کمیشن برائے پیس اینڈ جسٹس (این سی جے پی )کے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں اقلیتوں کی 27 عبادت گاہیں کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ این سی جے پی کے مطابق ملک میں ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں عبادت گاہوں کے لئے مخصوص جگہوں پرزبردستی قبضہ کر لیا گیا، حتی کہ پہلے سے موجود عبادت گاہوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ان کو تعمیر کرنے یادیکھ بھال کرنے والوں کو قتل کردیا گیا۔

ان تما م وارداتوں میں ایک بات مشترک رہی ،وہ تھی حملہ آوروں کا نامعلوم ہونا، سوائے احمدیوں کی عبادت گاہ کے، جہاں اس کارروائی کے لئے پنجاب پولیس کو ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے ۔
XS
SM
MD
LG