رسائی کے لنکس

بلوچستان: دہشت گرد حملوں میں ملوث بچوں کا گروہ گرفتار

  • ستار کاکڑ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

بچوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے کیے ہیں جس کے لیے اُنھیں ایک دھماکا کرنے پر تین سے پانچ ہزار روپے تک دیے جاتے تھے ۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کو ئٹہ پولیس کے سربرا ہ میر زبیر محمود نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں بچوں کے ذریعے بم دھماکے کرانے والے گروہ کو بے نقاب کیا گیا ہے اور شہر کے نواحی علاقے میں چھا پہ مارکر گیارہ سال سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے آٹھ بچوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ موقع سے فرار ہو نے والے گروہ کے دیگر بارہ افراد کی گرفتار ی کے لیے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

کو ئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے گئے بچوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے کیے ہیں جس کے لیے اُنھیں ایک دھماکا کرنے پر تین سے پانچ ہزار روپے تک دیے جاتے تھے ۔


میر زبیر محمود نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات سے پتہ چلا ہے کہ ایک کالعدم بلوچ عسکری تنظیم کے رکن عبدالنبی بنگلزئی اور اُس کے گروہ کے ارکان کو ئٹہ شہر میں عوام اور قانون نافذکرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائیاں کر ے گا اور اس مقصد کے لئے نوعمر لڑکوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ میر زبیر نے دعویٰ کیا کہ یہی گروہ پہلے بھی نو عمر لڑکوں کو بم دھماکوں کے لیے استعمال کرتا رہا ہے ۔

اُنھوں نے بتایا کہ گروہ سے بھاری تعداد میں اسلحہ و بارود بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

پاکستان کے جنو ب مغر بی صوبے بلوچستان میں جنوری کے دوسرے ہفتے میں شیعہ ہزارہ برادری پر ہونے والے دومہلک بم حملوں میں کم از کم سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے صوبائی حکومت کی برطر فی تک میتوں کی تدفین سے انکار کیا تھا۔

جس کے بعد وزیر اعظم راجہ پر ویز اشرف نے 14 جنوری کو سابق صوبائی حکومت کو بر طرف کر کے صوبے میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نا فذ کر دیا تھا جس کی مدت ایک دن بعد یعنی جمعرات کو ختم ہو رہی ہے ۔
XS
SM
MD
LG