رسائی کے لنکس

بلوچستان میں بم دھماکا، پانچ ہلاک

  • ن ہ
  • ستار کاکڑ

بلوچستان میں بم دھماکا، پانچ ہلاک

بلوچستان میں بم دھماکا، پانچ ہلاک

وزیر داخلہ نے پارلیمان میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئے روز محب وطن ہونے کےدعوے کرتے ہیں اور وہ سکیورٹی ایجنیسوں پرغلط کام کرنے کے الزامات لگاتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے یہ ارکان ایف سی کے اہلکاروں کی ہلاکت پر فاتح خوانی کرتے ہیں یا نہیں۔

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں منگل کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

تحصیل سوئی کے جانی بیڑی نامی علاقے میں سرکاری قافلے پر کیے گئے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں تین فرنٹیئر کور کے اہلکار اور دو مقامی امن لشکر کے ارکان تھے۔ آٹھ سے زائد زخمیوں میں بھی ایف سی کے اہلکار اور امن لشکر کے ممبران شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا قافلہ چار گاڑیوں پر مشتمل تھا جن میں دو ایف سی اہلکاروں سے بھری ہوئی تھیں جبکہ باقی دو میں امن لشکر کے ارکان سوار تھے۔ گاڑیوں کا یہ قافلہ اوچ پاور پلانٹ پر تعینات چینی ماہرین کو لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

صوبے کے شورش زدہ مگر تیل و گیس سے مالا مال اضلاع میں علیحدگی پسند بلوچ جنگجوؤں کے حملوں میں شدت آئی ہے اور گزشتہ چار روز کے دوران کی گئی کارروائیوں میں لگ بھگ دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت سکیورٹی فورسز کی ہے۔

ایک روزقبل موسیٰ خیل ضلع میں ایف سی کے ایک قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں ایک میجر سمیت پندرہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جو اب تک بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کی گئی مہلک ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ حکام کا کہنا ہے ک چودہ اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ایک زخمی نے مقامی اسپتال میں پہنچ کر دم توڑ دیا۔

یہ حملہ صوبائی دارالحکومت سے ساڑھے تین سو کلومیٹر شمال مشرق میں چمالنگ کے علاقے میں کیا گیا اور کالعدم بلوچ لیبریشن آرمی نے یہ حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں ایف سی کے چالیس اہلکار مارے گئے۔

لیکن ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ بلوچ عسکریت پسند عمومی طور پر ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتہ کے روز بھی سوئی کے علاقے میں بم کے ایک حملے میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے متنبہ کیا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں جو بھی ملوث پایا گیا حکومت اُس کے خلاف ’’بھرپور کارروائی‘‘ کی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ایف سی کے اہلکاروں پرعام لوگ حملے نہیں کر رہے بلکہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیے جاتے ہیں۔

’’بلوچستان میں کچھ طاقتیں اور کچھ ایسے عناصر ہیں جو یہ حملے کراتے ہیں جوان کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ وہ غدار جو صرف پاکستانی فورسز پر حملہ کررہے ہیں وہ کوئی عام آدمی نہیں ہوسکتے وہ پاکستان کے دشمن ہیں، وہ میرے دشمن ہیں، وہ آپ کے دشمن ہیں، آپ کی آنے والی نسلوں کے دشمن ہیں۔‘‘

وزیر داخلہ نے پارلیمان میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنماؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئے روز محب وطن ہونے کےدعوے کرتے ہیں اور وہ سکیورٹی ایجنیسوں پرغلط کام کرنے کے الزامات لگاتے ہیں لیکن دیکھنا یہ کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے یہ ارکان ایف سی کے اہلکاروں کی ہلاکت پر فاتح خوانی کرتے ہیں یا نہیں۔

پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ باغیوں کی سرپرستی حکومت کو مطلوب براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری کر رہے ہیں جو سوئیٹزرلینڈ اور لندن میں مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG