رسائی کے لنکس

ہنگو میں پولیس تھانے پر خودکش حملہ

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان کے شمال مشرقی علاقے ہنگو کے دوآبہ پولیس تھانے پر جمعرات کی صبح ایک خودکش حملہ کیا گیا جس میں ایک اہلکار سمیت کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی تھانے کی عمارت کے داخلی راستے سے ٹکرا دی اور طاقتور دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبل نہیں کی ہے تاہم پولیس نے اس میں ہنگو سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں کے ملوث ہونے کے شبہے کا اظہار کیا ہے۔

ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ آف پولیس میر چمن خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چند روز قبل پولیس نے ایک مسافر بس پر حملہ کرنے والے تین عسکریت پسندوں کا تعاقب کرکے اُنھیں ہلاک کر دیا تھا اور جمعرات کو ہونے والا حملہ بظاہر اُس واقعے کا ہی ردعمل ہے۔ تیرہ مارچ کو کیے گئے حملے میں 11 مسافر ہلاک ہو گئے تھے جس میں بیشتر کا تعلق اقلیتی شیعہ برادری سے تھا۔

میر چمن خان کے مطابق ایک روز قبل بھی شدت پسندوں نے گشت پر معمور دوآبہ پولیس کی ایک گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کر کے 11 اہلکاروں کو زخمی کر دیا تھا۔

ضلع ہنگو افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں کے قریب ہے جہاں سرکاری فوج طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ دوآبہ تھانہ قبائلی علاقے کرم کی طرف جانے والے راستے پر واقع ہے جب کہ ایک اور شورش زدہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ بھی ہنگو سے گزرتا ہے۔

ہنگو کو وقتاً فوقتاً پُرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور رواں ماہ اب تک یہاں ہونے والے چار حملوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا جمعرات ہی کو ہنگو سے ملحقہ اورکزئی ایجنسی سکیورٹی فورسز نے ایک چوکی پر شدت پسندوں کا حملہ پسپا کرتے ہوئے آٹھ جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ اس کارروائی میں ایک فوجی زخمی بھی ہوا۔

XS
SM
MD
LG