رسائی کے لنکس

لاہور میں بم دھماکے میں13ہلاک اور70سے زائدزخمی


لاہور میں بم دھماکے میں13ہلاک اور70سے زائدزخمی

لاہور میں بم دھماکے میں13ہلاک اور70سے زائدزخمی

لاہور کے رہائشی علاقے ماڈل ٹاؤن میں پیر کی صبح ایک طاقتور بم دھماکے میں کم از کم13افراد ہلاک اور70سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں

پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمے داری کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان اعظم طارق کا کہنا ہےکہ یہ حملہ افغان سرحد کے قریب پاکستانی قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون یا بغیر پائلٹ طیاروں اور پاکستانی فوج کے حملوں کا انتقام لینے کے لیے کیا گیا ہے۔

پیر کی شب شمالی وزیرستان میں ایک تازہ ڈرون حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس حملے کا ہدف مرکزی شہر میران شاہ میں عسکریت پسندوں کی ایک پناہ گاہ تھی۔

لاہور میں ہونے والے دھماکے کو بعض عہدے داروں نے خودکش بمبار کی کارروائی قرار دیا ہے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ دھماکے والی جگہ پر15 فٹ چوڑا اورآٹھ فٹ گہرا گڑھا پڑ چکا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بارودی مواد عمارت کے قریب کسی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

کمشنر لاہور خسرو پرویز نے جائے وقوع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ مرنے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں جبکہ15 خواتین اس حملے میں زخمی ہوئی ہیں۔ انھوں نےکہا کہ زخمیوں میں 29 کی حالت تشویش ناک ہے اور خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتاہے۔

خسرو پرویز نے بتایا کہ حملے کا ہدف ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں قائم سکیورٹی ایجنسی کا تفتیشی مرکز تھا اورشدید دھماکے کے باعث عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کےایک ماہر اللہ یار نے اپنی ابتدائی جائزہ رپورٹ کی تفصیلا ت سےصحافیوں کوآگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں کم ازکم500 کلوگرام بارودی مواد استمال کیا گیا اوراس کی شدت سے ارگرد کی عمارتوں کو بھی خاصا نقصان پہنچاہے جن میں سے کئی کی چھتیں منہدم ہوگئیں۔

پاکستان کے ثقافتی مرکز اور تقریباََ 80 لاکھ آبادی پر مشتمل لاہور میں ایسے دھماکے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ ان میں پچھلے سال ہونے والے چھ حملوں میں مجموعی طور پر 110 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

7 دسمبر کو شہر کی پُر رونق مون مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے دو بم دھماکوں میں 49 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہاں موجود بڑی تعداد میں دکانیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔

پاکستانی حکام تشدد کے ان واقعات کی ذمہ داری طالبان شدت پسندوں پر عائد کرتے ہیں ۔ محتاط اندازوں کے مطابق جولائی 2007 ء سے ا ب تک خودکش بم دھماکوں اوردہشت گردی کی دوسری ایسی کارروائیوں میں پاکستان میں مجموعی طور پر تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیکن 2009 ء کے اواخر میں ان واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو نے کے بعد اس سال ایسے حملوں میں نمایاں کمی آگئی تھی۔ حکام کے کہنا ہے کہ تشدد کی ان وارداتوں میں کمی کی وجوہات طالبان کے اہم کمانڈروں کی ہلاکت اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن ہیں۔

اسلام آباد میںامریکی سفارت خانے نے لاہور بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کی وحشیانہ کارروائیوں سے

XS
SM
MD
LG