رسائی کے لنکس

’مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کے شدت پسندوں کو ختم کر دیا ہے‘


پاکستان اور چین کے صدور

پاکستان اور چین کے صدور

چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ ’جاری آپریشن ضرب عضب سے مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کے عناصر کے خاتمے میں بھی مدد ملی ہے‘

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ ایغور جنگجوؤں کی تنظیم ’مشرقی ترکستان اسلامی تحریک‘ یعنی ’ای ٹی آئی ایم‘ کے تقریباً تمام شدت پسندوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

صدر ممنون حسین نے یہ بات بیجنگ کے دورے کے دوران کہی۔

چین کا یہ الزام رہا ہے کہ اُس کے مسلمان اکثریت والے علاقے سنکیانگ میں بدامنی میں مشرقی ترکستان کی مذہبی تحریک کے جنگجو ملوث ہیں، جب کہ چینی حکام کے مطابق، اس گروپ نے پاکستان اور افغانستان میں اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر منگل کو بیجنگ پہنچے تھے، جہاں وہ جنگ عظیم دوئم کے ستر سال مکمل پر منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔

چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں ممنون حسین نے کہا کہ جاری آپریشن ضرب عضب سے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں کامیابی ملی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس آپریشن سے مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے عناصر کے خاتمے میں بھی مدد ملی ہے ’میرے خیال میں ہمارے ملک میں (ای ٹی آئی ایم کے) تقریباً تمام ہی لوگوں کو ختم کر دیا گیا ہے، اگر اُن میں کچھ ہیں بھی تو وہ بہت ہی کم ہوں گے۔‘

صدر ممنون حسین نے کہا کہ چین اور پاکستان کے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی ہمیشہ مدد کرتے رہے ہیں۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے، شنہوا کے مطابق، صدر ژی جن پنگ نے ممنون حسین کو بتایا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے چین پاکستان کی کوششوں کی غیر متزلزل مدد جاری رکھے گا۔

چین کے مغربی خطے سنکیانگ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران تشدد کے واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سنکیانگ میں بدامنی کی بنیادی وجہ اس خطے کی ایغور برادری پر چین کی طرف سے عائد کی جانے والی سخت مبینہ پابندیاں ہیں جو مقامی لوگوں کے مذہب اور ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی چینی رہنماؤں کے ملاقات میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دہشت گرد عناصر بشمول مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب میں حکام کے مطابق بڑی تعداد میں غیر ملکی دہشت گرد بھی مارے گئے، جن میں مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے جنگجو بھی شامل تھے۔

فوج کے مطابق گزشتہ سال جون سے شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب میں اب تک لگ بھگ تین ہزار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG