رسائی کے لنکس

پارلیمانی قرار داد کے بعد پہلا امریکی ڈرون حملہ

  • شمیم شاہد

شمالی وزیرستان میں اتوار کو ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم تین مبینہ عسکریت پسند ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے سے داغے گئے میزائلوں کا ہدف اس پاکستانی قبائلی خطے کے انتظامی مرکز، میران شاہ، کے قریب ایک عمارت تھی جو حملے میں تباہ ہو گئی۔

مقامی حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کا یہ مشتبہ ٹھکانہ لڑکیوں کے لیے قائم ایک سرکاری اسکول کے احاطے میں بنایا گیا تھا جہاں تعلیمی سرگرمیاں کئی سالوں سے معطل ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ میزائل حملے کے وقت گھر کے تمام مکین برآمدے میں جمع تھے جن پر یکے بعد دیگرے دو میزائل داغے گئے، جس سے اسکول کی عمارت کے کئی حصے بھی منہدم ہو گئے۔

ڈرون حملے کے بعد اردگرد کے علاقوں سے عسکریت پسندوں نے فوری طور پر وہاں پہنچ کر عمارت کے احاطے کو گھیرے میں لینے کے بعد ہلاک اور زخمیوں کو ایک نجی اسپتال میں منتقل کر دیا۔

اس حملے کا نشانہ بننے والوں میں اطلاعات کے مطابق غیر ملکی بھی شامل ہیں تاہم ان کی شناخت کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے سے بچنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسند حالیہ دنوں میں میران شاہ کے آس پاس شہری علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی سرزمین پر تازہ امریکی ڈرون حملہ رواں ماہ پارلیمان سے متفقہ طور پر منظور کی گئی اُس قرار داد کے بعد کیا گیا ہے جس میں امریکہ کے ساتھ تعاون کی بحالی کے لیے اولین شرائط میں ڈرون حملوں کی فوری بندش ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قرار داد کی منظوری کے وقت اراکین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے لیے پارلیمان کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG